.

پاکستانی فورسز کی کارروائی میں ضلع راجن پور میں چار دہشت گرد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پور میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوگیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق راجن پور کے علاقے گینڈاری میں کارروائی کے دوران متعدد مفروروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ملزموں کے قبضے سے بھاری تعداد میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا ہے۔

بارڈر ملٹری پولیس کے ایک سینیر کمانڈر نے بتایا ہے کہ ''ضلع راجن پور کے قبائلی پہاڑی علاقے میں ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے''۔ ضلع راجن پور کا یہ علاقہ صوبہ بلوچستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

راجن پور کے ضلعی پولیس افسر عرفان اللہ نے بتایا ہے کہ پنجاب پولیس اس آپریشن کا حصہ نہیں ہے،اس لیے اس کو اس بارے میں کچھ تفصیل معلوم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اگست کے اوائل میں تباہ کن بم دھماکے کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

قبل ازیں اپریل میں بھی پاکستان آرمی نے راجن پور کے کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف کارروائی کی تھی۔یہ آپریشن چھوٹو گینگ کے ہاتھوں سات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور چوبیس کو یرغمال بنائے جانے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔فوج کی مداخلت کے بعد چھوٹو گینگ کے لیڈر غلام رسول نے اپنے تیرہ ساتھیوں سمیت غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے تھے اور یرغمالیوں کو بھی رہا کرا لیا گیا تھا۔