.

ملتان : دو ٹرینوں میں تصادم ،6 افراد جاں بحق ،150 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وسطی شہر ملتان کے نزدیک دو ٹرینوں میں تصادم سے چھے مسافر جاں بحق اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ ملتان شہر سے پچیس کلومیٹر دور بچہ ریلوے اسٹیشن پر جمعرات کو علی الصباح پیش آیا ہے جہاں پشاور سے کراچی جانےوالی عوام ایکسپریس پٹڑی پر کھڑی ایک مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس سے مسافر ٹرین کی چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں تاخیر پیش آئی ہے اور ریسکیو ٹیمیں تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچی ہیں۔پاک فوج کے جوانوں نے بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے اور زخمیوں کو ملتان کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔حکام کے مطابق دس زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حادثے میں چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

امدادی کارکنان کے مطابق پچاس زخمیوں کو نشتر اسپتال ملتان منتقل کردیا گیا ہے اور پچاس سے زیادہ کو جائے حادثہ ہی پر ابتدائی طبی امداد دے کر فارغ کردیا گیا ہے۔پاک فوج کی ٹیمیں بھاری مشینری کے ساتھ ٹرینوں کو ہٹانے اور پٹڑی پر ریلوے ٹریفک بحال کرنے کے لیے کوشاں تھیں۔

ملتان میں ریلوے کی ایک عہدے دار صائمہ خضر نے مسافر ٹرین کے ڈرائیور کو حادثے کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سرخ بُتی کو دیکھنے اور اس پر توجہ دینے میں ناکام رہا۔مال گاڑی کے پٹڑی پر رکنے کے بعد سرخ بتی چل رہی تھی لیکن اس کے باوجود عوام ایکپسریس کا ڈرائیور اس جانب بڑھتا رہا۔ صائمہ خضر کا کہنا ہے کہ ریلوے ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت کی بحالی میں اٹھارہ گھنٹے لگیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان ریلوے کا نیٹ ورک نوآبادیاتی دور سے تعلق رکھتا ہے اور آزادی کے بعد وقت کے ساتھ اس کی تعمیر و مرمت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی اور ازکار رفتہ نظام کی وجہ سے چند ماہ کے وقفوں کے بعد بڑے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔

گذشتہ سال نومبر میں صوبہ بلوچستان میں ایک مسافر ٹرین بریک فیل ہوجانے کی وجہ سے پٹڑی سے اتر کر پہاڑ کی جانب لڑھک گئی تھی جس سے انیس افراد جان بحق ہوگئے تھے۔ جولائی 2005ء میں صوبہ سندھ میں ایک مسافر ٹرین ایک اسٹیشن پر کھڑی ایک اور ٹرین سے جا ٹکرائی تھی جس کے نتیجے میں قریباً ایک سو تیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔