.

''35 سال کی خفیہ جدوجہد کے بعد ایران کے اصل عزائم سامنے آ گئے''

حج انتظامات میں مسلم ممالک کوشریک کرنے کا مطالبہ سراسر ناجائز اور بدنیتی پرمبنی ہے: مولانا خلیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دفاع پاکستان کونسل اور انصارالاُمہ کے مرکزی رہ نما مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا ہے کہ ایران کی گذشتہ پینتیس سال سے جاری خفیہ جدوجہد اب کھل کر منظرعام پر آگئی ہے اور وہ الحرمین الشریفین پر قبضے کے لیے سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر یمن میں کھلی فوجی مداخلت کے بعد اس کے حقیقی عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حج سے چند روز قبل سامنے آنے والے ایک مطالبے کے تناظر میں العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو سے گفتگو کررہے تھے۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ مسلم ممالک کو مشترکہ طور پر حج انتظامات کا کنٹرول حاصل ہونا چاہیے۔ان سے پوچھا گیا کہ ایرانی رہ نما کا یہ مطالبہ کہاں تک قابل عمل ہے؟اس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان خلیل یوں گویا ہوئے:''الحرمین الشریفین کو ایرانی انقلاب کا حصہ بنانے کے لیے ایران کا ایک ایجنڈا ہے اور جب تک وہ اس پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے اس وقت تک ان کا انقلاب مکمل نہیں ہوتا ہے لیکن بات دراصل یہ ہے کہ ماضی کی طرح اس سال بھی سعودی حکومت نے حج کے موقع پر مثالی انتظامات کیے ہیں۔ سعودی عرب لاکھوں حاجیوں کو یکساں سہولتیں فراہم کرتاہے۔وہ یہ انتظام کسی منافع کی غرض سے نہیں ،بلکہ صرف حاجیوں کی خدمت کے جذبے سے کرتا ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''سعودی حکومت ہر سال حج انتظامات پر اربوں ریال خرچ کرتی ہے اور مقامات مقدسہ کی تعمیر وترقی کے عظیم منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کررہی ہے۔ وہ حج انتظامات کو اپنی مذہبی ذمے داری سمجھتی ہے مگر حج آپریشن سے کوئی منافع حاصل نہیں کرتی ہے۔ہرسال لاکھوں عازمینِ حج سعودی عرب کارُخ کرتے ہیں۔ 164 مختلف ممالک اور کلچرز سے تعلق رکھنے والے فرزندان توحید کو کنٹرول کرنا ،انھیں تمام ضروری سہولتیں مہیا کرنا ایک بہت بڑا کام ہے۔دنیا میں اس طرح لاکھوں لوگوں کو سنبھالنے اور اتنے بڑے اجتماعات کے انتظام وانصرام کا کسی اور ملک کو سالہا سال کا تجربہ نہیں ہے جو سعودی عرب کے حکام کو ہے۔لاکھوں سکیورٹی اہلکار اور رضاکار کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کےلیے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں اور یہ تمام امور سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں،مگرگذشتہ سال پیش آنے والے ایک حادثے کے پیش نظر کچھ ممالک اپنا مخصوص اورمذموم ایجنڈا لے کرسامنے آئے اورمطالبہ کیاکہ حج انتظامات میں مسلم ممالک کوشریک کیاجائے۔ یہ مطالبہ سراسر، ناجائز اور بدنیتی پرمبنی ہے کیوں کہ یہ صرف ایک مطالبہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک سازش کارفرماہے جومشرق وسطیٰ کے مخصوص حالات کے حوالے سے ہے''۔

یمن میں مداخلت

ان سے العربیہ نے سوال کیا کہ یمن میں ایران کی مداخلت کے بعد ہی سعودی عرب اور دوسرے ممالک کی جانب سے زیادہ تشویش کیوں ظاہر کی گئی؟اس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ ''یمن کی ایک طویل سرحد سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہے۔سعودی عرب کی جنوبی سرحد کے ساتھ واقع یمن کے شمالی علاقے میں حوثی شیعہ باغیوں کا قبضہ ہے۔وہ سعودی علاقے کی جانب گولہ باری کرتے رہتے ہیں۔ان کی سعودی فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔اس کے علاوہ بحراحمر میں عدن اور یمن کی دوسری بندرگاہوں کے ذریعے ماہانہ ہزاروں مال بردار بحری جہاز اور تیل بردار جہاز مغرب کی جانب جاتے ہیں۔اب اگر یمن میں حوثیوں کا مکمل کنٹرول ہوجاتا تو اس سے ایک تو تیل کی عالمی تجارت متاثر ہوتی اور اس سے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی عرب ممالک کے مالی مفادات کو شدید نقصان پہنچتا۔چنانچہ سعودی عرب نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی اپیل پر حوثیوں کی جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کی تھی''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''قبل ازیں ایران کی عراق اور شام میں کھلی فوجی مداخلت تھی۔وہ سعودی عرب کے پڑوسی ممالک بحرین اور کویت میں بھی مداخلت کرتا رہا ہے اور اس پر خلیجی عرب ممالک کے قائدین گاہے گاہے کھلے عام تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن جب ایران نے یمن میں مداخلت کی۔ اس کی آشیرباد سے حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا اور دوسرے شہروں پر قبضہ کر لیا اور منتخب حکومت کو چلتا کیا تو اس کے بعد سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کی جانب سے تشویش میں اضافہ ہوتا چلا گیا''۔

شام اور عراق میں غیرملکی جنگجو

ان سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کے تناظر میں گفتگو کا اگلا موضوع عراق اور شام میں جاری جنگوں میں ہر طرح کی رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں اور مختلف ممالک کی مداخلت تھا۔جب کسی مغربی ملک سے تعلق رکھنے والا شہری مشرقِ وسطیٰ میں لڑنے کے لیے آتا ہے تو اس کے بارے میں وہاں کا وزیر داخلہ یا دوسرے حکام اس تشویش کا اظہار ضرور کرتے ہیں کہ یہ لوگ جنگ زدہ علاقوں سے لوٹنے کے بعد گڑ بڑ پھیلا سکتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان سے بعض شیعہ تنظیمیں جنگجو لڑائی کے لیے عراق اور شام میں بھیج رہے ہیں اور ان کی ہلاکتوں کی خبریں بھی منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔مولانا سے پوچھا گیا کہ کیا ایسے جنگجوؤں کی پاکستان میں واپسی کی صورت میں فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟

اس کے جواب میں انصار الامہ کے سربراہ نے کہا کہ ''ہم پاکستان میں فرقہ واریت اور اس کی بنیاد پر تشدد کے خلاف ہیں۔اب اصل میں جو ملک یا ممالک ایسی فرقہ پرست تنظیموں یا جنگجوؤں کو اپنے مقاصد کے لیے جنگ زدہ ممالک میں استعمال کررہے ہیں تو ان ممالک سے بات کی جانی چاہیے۔ان پر دباؤ ڈالا جانا چاہیے تاکہ ملک میں ایسا کوئی گروپ کسی قسم کے تشدد کی کارروائیوں میں ملوّث نہ ہوں اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنیں۔ہم فرقہ وارانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔فرقہ واریت کا قلع قمع کیا جانا چاہیے''۔

یمن ،عراق اور شام میں داعش کی صفوں میں ہوکر لڑنے والے مغربی جنگجوؤں کی آمد کے حوالے سے ان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے داعش کے حوالے سے دُہرا معیار اپنا رکھا ہے۔مغربی ممالک کے شہری ہوائی اڈوں کے ذریعے طیاروں میں سوار ہوکر شام اور عراق پہنچتے رہے ہیں۔وہ اکا دکا نہیں بلکہ دس بیس کی تعداد میں آتے رہے ہیں لیکن ان ممالک نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔پھر داعش کو پالنے پوسنے میں امریکا کے اپنے کردار پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ابتدا میں امریکا نے داعش کو تربیت دی اور اسلحہ مہیا کیا تھا۔یہ اور بات ہے کہ اب امریکا اور اس کے اتحادی ممالک شام اور عراق میں داعش کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں۔

ترکی میں بغاوت اور گولن تحریک

ان سے آخری سوال ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف جولائی میں مسلح بغاوت میں علامہ فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک کے کردار کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ یوں گویا ہوئے:'' اس مسلح بغاوت میں امریکا کی سی آئی اے ملوّث تھی اور گولن تحریک اس کا آلہ کار بنی۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ فتح اللہ گولن کا قیام وطعام کہاں ہے؟وہ امریکی ریاست پنسلوینیا میں بڑی عیش پسند زندگی گزار رہے ہیں۔بات یہ ہے کہ امریکا کی سوچ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تھی اور ہے۔ترکی نے حالیہ برسوں کے دوران میں صدر رجب طیب ایردوآن کی قیادت میں بے پایاں معاشی ترقی کی ہے۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''امریکا نہیں چاہتا کہ ترکی یا کوئی اور ملک اس طرح ترقی کرے اور اس نے ترکی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے صدر ایردوآن کی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کرادی۔اس سے پہلے ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات خراب کرائے گئے تا کہ وہ عالمی برادری میں تنہا ہو کر رہ جائے۔شام اور ترکی کے درمیان سرحدی علاقے میں روسی طیارے کو مار گرانے والے دونوں پائیلٹوں کا گولن تحریک سے تعلق تھا۔اب وہ ترکی میں گرفتار ہیں لیکن ترکی میں حکومت مخالف بغاوت فرو ہونے کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی ہے اور روس ایک مرتبہ پھر ترکی کے قریب آ گیا ہے''۔