پاکستان کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے: جنرل راحیل شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی کسی بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

وہ سوموار کے روز جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں کور کمانڈرز کی کانفرنس کی صدارت کررہے تھے۔کانفرنس میں بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف حالیہ بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آرمی خطے میں ہونے والی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور وہ اس کے قومی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''پاکستان کی مسلح افواج اپنی پُرعزم قوم کے ساتھ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ مستقبل میں ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف کسی بھی مذموم سازش کو ناکام بنا دیں گی''۔

جنرل راحیل شریف نے پاک آرمی کی جنگی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔کانفرنس میں سلامتی کی اندرونی اور بیرونی صورت حال اور مسلح افواج کی جنگی تیاریوں کا مکمل تفصیل اور گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اتوار کو پاکستان کے خلاف ایک اشتعال انگیز بیان جاری کیا تھا اور اس کو ایک دہشت گردی ریاست قرار دیا تھا۔انھوں نے یہ بیان بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ کشمیر میں مسلح جنگجوؤں کے ایک فوجی اڈے پر حملے کے ردعمل میں داغا تھا۔اس حملے میں سترہ بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

راج ناتھ سے قبل بھی وزیراعظم نریندر مودی اور دوسرے قائدین نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات جاری کیے ہیں۔اس تناظر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان ٹاکرا ہونے والا ہے۔

پاکستان نے عالمی لیڈروں کے اس سالانہ اجتماع کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں اور احتجاج کرنے والے کشمیریوں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کا فیصلہ ہے جبکہ بھارت پاکستان کے صوبے بلوچستان میں محدود پیمانے پر جاری مسلح علاحدگی پسندی کی تحریک کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بھارت بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جلاوطن کارکنان کے پاکستان مخالف مظاہرے کی بھی حمایت کررہا ہے اور اس کی پشت پناہی سے بلوچ علاحدگی پسند وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے موقع پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر ایک مظاہرہ کریں گے۔

پاکستان اور بھارت اپنے اپنے مؤقف کے حق میں امریکا کی حمایت کے لیے بھی کوشاں رہے ہیں۔تاہم اس نے بظاہر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکا ماضی میں دونوں ملکوں پر مسئلہ کشمیر سمیت دوطرفہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زوردیتا رہا ہے اور وہ تنازعہ کشمیر کے کسی تصفیے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنے سے گریزاں رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں