.

کوئٹہ میں بس پر فائرنگ ، چار ہزارہ عورتیں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک بس پر فائرنگ کردی ہے جس سے ہزارہ شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی چار عورتیں ہلاک اور ایک زخمی ہوگئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق منگل کی شام مسلح افراد نے کوئٹہ پڈگلی چوک کے نزدیک کیرانی روڈ پر مسافر بس پر فائرنگ کی ہے۔بس ہزارہ ٹاؤن کی جانب جارہی تھی۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ کا کہنا ہے کہ مسافر بس میں آٹھ خواتین سوار تھیں اور ان میں سے پانچ کو ہزارہ نسل اور شیعہ فرقے سے تعلق کی بنا پر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

واقعے کے فوری بعد فرنٹئیر کور اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب بھیج دی گئی ہیں اور زخمی عورت کو بولان میڈیکل اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔اسپتال کے اندر اور باہر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری نے ہزارہ عورتوں پر فائرنگ کے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔انھوں نے واقعے میں ملوث افراد کو جلد سے جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ اس صوبے میں تشدد اور اہدافی قتل کے واقعات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں۔ان میں شیعہ اقلیت اور ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہزارہ نسل کے افراد اپنی خاص شکل وشباہت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اور یوں انھیں حملہ آور بآسانی دوسروں سے الگ تھلگ کرکے فائرنگ کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔