.

پارلیمان میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان نے غیرت کے نام پر قتل کے انسداد کے لیے بل اور انسداد عصمت ریزی بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔یہ دونوں بل حزب اختلاف پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پیش کیے تھے۔

پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی اور ایوان بالا سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں جمعرات کے روز حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ارکان نے اتفاق رائے سے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لیے قانون کی منظوری دی ہے اور اس کے تحت ایسی مقتولہ عورت کے ورثاء کی جانب سے اس کے قاتل کو معاف کرنے کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔

پارلیمان میں منظور کردہ نئے قانون کے تحت غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ملزم کو اب کڑی سزا دی جاسکے گی اور اس کو جرم ثابت ہونے پر اگر پھانسی کی سزا دی جاتی ہے تو اس صورت میں خاندان کے افراد اس کو معاف کرسکیں گے ۔یہ معافی ملنے پر بھی اس کو عمر قید (ساڑھے بارہ سال) کی سزا بھگتنا ہوگی۔

پارلیمان نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کے پیش کردہ ''انسداد عصمت ریزی بل'' کی بھی اتفاق رائے سے منظوری دی ہے۔بل کے محرک کا کہنا تھا کہ اس سے ملک بھر میں عصمت ریزی ( ریپ) کے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

ایوان میں اس بل پر بحث کے دوران وزیر قانون زاہد حامد نے انکشاف کیا کہ جرم کے مرتکب کا طبی ملاحظہ بھی کیا جائے گا۔عدالتیں عصمت ریزی کے کیسوں کا تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی پابند ہوں گی اور چھے ماہ میں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی جاسکے گی۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن متاثرین کو ان کے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہ کرنے کے پابند ہوں گے۔اس قانون کے تحت مجرم کو پچیس سال تک قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔

وزیر قانون نے مزید بتایا ہے کہ کم سن بچوں سے زیادتی اور ذہنی یا جسمانی معذورین کی عصمت ریزی کے مجرم بھی سخت سزا پائیں گے۔ایسے ملزموں اور متاثرین کے ڈی این اے کے نمونے جلد سے جلد حاصل کیے جائیں گے اور انھیں مزید تحقیق وتفتیش کے لیے کسی فورینزک لیبارٹری میں بھیجا جائے گا۔

واضح رہے کہ بعض غیر سرکاری اداروں کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال قریباً پانچ سو خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔کسی نوجوان لڑکی یا شادی شدہ عورت کو اپنے آشنا کے ساتھ گھر سے فرار ،خاندان کی مرضی کے بغیر شادی یا کسی سے ناجائز مراسم کی بنا پر موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔

لیکن جب ان عورتوں کے قاتل بھائیوں ،بیٹوں ،والدین یا دوسرے قریبی رشتے داروں کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلتے ہیں تو بالعموم ان کے قریبی عزیز اور مقدمے کے مدعی انھیں معاف کردیتے ہیں اور یوں وہ سزا سے صاف بچ نکلتے ہیں۔