.

پاکستان کرکٹ ٹیم کی 400 ویں ٹیسٹ میچ میں جیت

ویسٹ انڈیز کی ٹیم پانچویں روز جیت کے قریب پہنچ کر 56 رنز سے ہار گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کرکٹ ٹیم نے دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز) کی ٹیم کو 56 رنز سے شکست دے دی ہے۔پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ چار سو واں میچ تھا اور اس میں اس نے ویسٹ انڈیز سے کھیل کے آخری روز ایک سخت اور دلچسپ مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کی ہے۔

دن اور رات میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیتا تھا اور پہلے خود بلے بازی کا فیصلہ کیا تھا۔پاکستانی ٹیم نے تین وکٹ کے نقصان پر579 رنز بنا کر اپنی اننگز ڈیکلئیر کردی تھی۔

پاکستانی اننگز کی خاص بات اوپنر اور نائب کپتان اظہرعلی کی شاندار ٹرپل سینچری تھی۔انھوں نے 302رنز بنائے اور ناٹ رہے تھے۔ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ میں کسی بلے باز کی یہ پہلی ٹرپل سینچری تھی۔انھیں اس شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔

ان کے ساتھ اوپنر سمیع اسلم نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 215 رنز بنائے تھے۔سمیع اسلم 90 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے۔تیسرے نمبر پر اسد شفیق کھیلنے کے لیے آئے تھے اور وہ 67 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے تھے۔پاکستان کے تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی بابراعظم تھے۔یہ ان کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا اور انھوں نے 69 رنز بنائے تھے۔کپتان مصباح الحق نے جب اننگز ڈیکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت وہ خود 29 رنز پر کھیل رہے تھے۔

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے اس بھاری اسکور کے جواب میں پہلی اننگز میں 357 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ڈی ایم براوو نے سب سے زیادہ 87 رنز بنائے۔ان کے بعد ایم این سیموئلز 76 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے تھے۔

پاکستان کے سپن باؤلر یاسر شاہ نے پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور سترہ ٹیسٹ میچوں میں ایک سو وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔

پاکستانی ٹیم نے دوسری اننگز میں مایوس کن کھیل پیش کیا اور اس کے بلے باز ویسٹ انڈیز کے باؤلر ڈیونڈرا بیشو کا مقابلہ نہ کرسکے اور یوں پوری ٹیم صرف 123 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔اوپنر سمیع اسلم نے سب سے زیادہ 44 رنز بنائے جبکہ پہلی اننگز میں ٹرپل سینچری بنانے والے اطہر صرف دو رنز بنا کر پویلین کو لوٹ گئے۔بیشو نے آٹھ پاکستانی بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔

دوسری اننگز میں پاکستان کے سات کھلاڑی دس کا ہندسہ بھی عبور نہیں کرسکے تھے۔اس طرح پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو مجموعی طور پر جیت کے لیے 345 رنز کا ہدف دیا لیکن اس کی پوری ٹیم 289 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے ڈی ایم براوو نے دوسری اننگز میں بھی پاکستانی باؤلروں کی بھرپور مزاحمت کی اور وہ 116 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

ایک وقت میں وہ ویسٹ انڈیز کو جیت کے قریب لے آئے تھے لیکن دوسرے بلے باز وقفے وقفے سے آؤٹ ہوتے رہے اور پانچویں اور آخری روز کے آخری گھنٹے کے کھیل میں پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے آخری بلے باز ایس ٹی جبرائیل کو رن آؤٹ کرنے کے بعد کامیابی سے ہم کنار ہوگئی ہے۔ اب دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ 21 اکتوبر سے ابوظبی میں کھیلا جائے گا۔