.

کراچی : ایم کیو ایم لندن سے وابستہ رابطہ کمیٹی کے تین ارکان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سندھ رینجرزنے لندن سے تعلق رکھنے والی لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رابطہ کمیٹی کے تین ارکان پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف ،کنور خالد یونس اور امجد اللہ خان کو گرفتار کر لیا ہے۔

اول الذکر دونوں رہ نماؤں کوکراچی پریس کلب کے باہر سے ہفتے روز گرفتار کیا گیا ہے جہاں وہ نیوزکانفرنس کرنے والے تھے۔ان کی وہاں آمد سے قبل رینجرز اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی تھی اور انھوں نے وہاں پوزیشن سنبھال کر گاڑیوں کی چیکنگ شروع کردی تھی۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی لندن میں مقیم ایک رکن واسع جلیل نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ''رینجرز نے نامعلوم وجوہ کی بنا پر پروفیسر حسن ظفر عارف اور کنور خالد یونس کو گرفتار کر لیا ہے۔اس سے واضح ہے کہ کون گڑ بڑ چاہتا ہے''۔

حراست میں لیے گئے یہ دونوں افراد الطاف حسین کی وفادار ایم کیو ایم کی نو تشکیل شدہ رابطہ کمیٹی کے ارکان ہیں۔ان کی گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم لندن کی قیادت نے کراچی میں پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہفتے کی شام رینجرز نے ایم کیو ایم لندن میں شمولیت اختیار کرنے والے امجد اللہ خان کو بھی کراچی پریس کلب کے باہر سے گرفتار کر لیا ہے۔

برطانوی شہری الطاف حسین کے وفاداروں پر مشتمل ایم کیو ایم نے حال ہی میں بارہ رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس کا مقصد جماعت پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے کیونکہ 22 اگست کو جماعت کے حواس باختہ بانی قائد کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد کراچی سے تعلق رکھنے والے ایم کیو ایم کے بہت سے ارکان پارلیمان اور دیگر رہ نماؤں نے ان سے اپنا ناتا توڑ لیا تھا اور انھوں نے ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں پاکستانی ایم کیو ایم تشکیل دی تھی۔

دوسری جانب کراچی میں مقیم ایم کیو ایم کے بہت سے رہ نماؤں نے شدت پسند الطاف حسین سے اپنا ناتا برقرار رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے بغیر جماعت کچھ بھی نہیں ہے۔ڈاکٹر حسن عارف نے چار اور لوگوں کے ساتھ حال ہی میں ایم کیو ایم الطاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ڈاکٹر حسن عارف جامعہ کراچی کے شعبہ فلسفہ میں سابق استاد رہے ہیں۔ان کے علاوہ اِیڈووکیٹ اسحاق ،نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر مومن خان مومن ،امجداللہ خان اور ایڈووکیٹ ادریس علوی کو نوتشکیل شدہ رابطہ کمیٹی کا رکن بنایا گیا تھا۔

انھوں نے 15 اکتوبر کو کراچی پریس کلب ہی میں ایک نیوز کانفرنس کی تھی اور اس میں ایم کیو ایم کے خلاف شہر میں جاری آپریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔یہ پریس کانفرنس الطاف حسین کی ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف ایک طرح سے طاقت کا بھی اظہار تھا، مگر اب سندھ رینجرز نے انھیں دوسری نیوز کانفرنس نہیں کرنے دی ہے جس سے ظاہر ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین اور ان کے ہم نواؤں کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔