طاہر القادری کا اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے میں شرکت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان عوامی تحریک ( پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے 2 نومبر کو اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے دھرنے میں شریک ہونے کا اعلان کردیا ہے اور اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی دعوت قبول کر لی ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ٹیلی فون پر ڈاکٹر طاہر القادری سے بات چیت کی ہے اور ان کے حکومت مخالف مارچ میں شرکت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

واضح رہے کہ عوامی تحریک نے قبل ازیں تحریک انصاف کے اسلام آباد میں اس حکومت مخالف احتجاجی مارچ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور عمران خان نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو ڈاکٹر طاہرالقادری کو منانے کی ذمے داری سونپی تھی۔

ان کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''میں نے دھرنے میں شرکت کے لیے عمران خان کا دعوت نامہ قبول کر لیا ہے کیونکہ دونوں جماعتوں کے کارکنان ایک ہی نصب العین کے لیے جدوجہد کررہے ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ ''میں نے خرم نواز گنڈا پور کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔اب جماعت کے نمائندے مل بیٹھیں گے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے''۔

پی ٹی آئی نے حکومت مخالف تحریک میں شرکت کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو دعوت دے رکھی ہے تاکہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنایا جاسکے اور موجودہ حکومت سے گلو خلاصی حاصل کی جاسکے۔

پی ٹی آئی پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔حکومت کی درخواست پر عدالت عظمیٰ نے اس کیس کی سماعت شروع کردی ہے لیکن اس کے باوجود عمران خان اسلام آباد کو بند کرنے اور حکومت کے خاتمے تک دھرنا دینے پر مُصر ہیں۔

ان کی جماعت احتجاجی مارچ اور دھرنے کے دوران حکومت کے کسی ممکنہ کریک ڈاؤن سے بچنے کے لیے ایک حکمت عملی بھی وضع کررہی ہے۔ جماعت کے ایک سینیر عہدے دار کے بہ قول پی ٹی آئی کے کارکنان اسلام آباد اور راول پنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد سے زیرو پوائنٹ کی جانب مارچ کریں گے اور پھر وہاں کشمیر ہائی وے ،آئی جے پرنسپل روڈ ،مری روڈ اور اسلام آباد ایکسپریس کی جانب جانے والے راستوں کو بند کردیں گے۔

اس طرح وفاقی دارالحکومت میں شاہراہوں پر نقل وحرکت مسدود ہوکر رہ جائے گی۔اس عہدے دار کے بہ قول :''جماعت کے رہ نماؤں کا خیال ہے کہ حکومت بہ ذات خود بھی ان شاہراہوں کو بند کردے گی،اس طرح وہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد کو محصور کرنے کے منصوبے کی مدد کرے گی''۔

اگر اسلام آباد کو بند کرنے سے قبل پی ٹی آئی کے کارکنان کو گرفتار کیا جاتا ہے تو پھر ان پولیس تھانوں کا گھیراؤ کیا جائے گا جہاں انھیں رکھا جائے گا۔پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو گرفتاری سے بچنے کی ہدایت کی ہے اور اگر کوئی کارکن گرفتار ہوتا ہے تو پھر کم سے کم دو سو کارکنان کو فوری طور پر متعلقہ پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کرنے کے لیے بھیج جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں