.

کوئٹہ: پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں کا حملہ، 61 افراد جاں بحق

سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواح میں پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں کے حملے میں 61 پولیس اہلکار جاں بحق اور 124 زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پیر کی شب قریبا دس بجے تین خودکش حملہ آور کوئٹہ کے مضافات میں واقع پولیس ٹریننگ کالج میں داخل ہوگئے اور انہوں نے پولیس کیڈٹس کے ہاسٹلز کو نشانہ بنایا۔پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر زیر تربیت پولیس اہلکار ہیں۔بیس زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے میڈیا کو بتایا کہ سب سے پہلا حملہ پولیس ٹریننگ سینٹر کے عقبی علاقے میں واقع واچ ٹاور پر کیا گیا جہاں موجود سنتری نے بھرپور مقابلہ کیا۔ جب وہ مارا گیا تو حملہ آور دیوار پھلانگ کر کالج کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ٹریننگ سینٹر سے بازیاب کروائے گئے ایک زیرِ تربیت اہلکار نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساڑھے نو سے دس بجے کے درمیان شدت پسندوں نے اندر داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ دو دہشت گردوں نے تربیتی مرکز میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا اور تیسرے کو سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا ہے۔سکیورٹی فورسز نے کارروائی مکمل کرنے کے بعد پولیس کالج کو کلئیر قرار دے دیا ہے۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل شیر افگن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کے تربیتی مرکز پر حملہ آوروں کا تعلق لشکر جھنگوی کے العالمی گروپ سے ہے۔انھیں افغانستان سے ہدایات مل رہی تھیں۔عراق اور شام میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے پولیس کے تربیتی مرکز پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہتر طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی اور صوبائی حکام کو حملے میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے۔