''افغانستان میں این ڈی ایس اور بھارتی ''را'' دہشت گرد گروپوں کی سرپرست''

علاقائی امن و استحکام اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے افغانستان میں سیاسی مفاہمت ناگزیر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ (را) اور افغان خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کررہے ہیں اور یہ گروپ پاکستان میں نرم اہداف کو دہشت گردی کے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ بات وزیراعظم میاں نواز شریف کے قومی سلامتی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے اسلام آباد میں متعیّن امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے بدھ کے روز ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے اور انھیں پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی اور را کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کے حوالے سے ایک پیغام پہنچایا ہے۔انھوں نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر دہشت گردوں کے حملے ،انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور سرحدپار حملوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے کیونکہ یہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔اس کے علاوہ افغانستان میں سیاسی مفاہمت بھی دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے ناگزیر ہے۔

انھوں نے این ڈی ایس اور را کے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ ناپاک گٹھ جوڑ اور اول الذکر ایجنسیوں کی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔انھوں نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے امریکا سے مدد کے لیے بھی کہا ہے۔انھوں نے امریکی سفیر کو بتایا کہ پولیس تربیتی کالج پر حملہ کرنے والے دہشت گرد افغانستان میں اپنے سرپرستوں اور قائدین سے مسلسل رابطے میں رہے تھے۔

قومی سلامتی کے مشیر نے امریکی سفیر کو حکومت کی ملک میں سکیورٹی کی صورت حال کو قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ذریعے بہتر بنانے کے لیے کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔

اس موقع پر ڈیوڈ ہیل نے کوئٹہ میں دہشت گردی کے حملے کی مذمت کی اور اس میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انھوں نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے امریکا کی جانب سے پاکستان کو مدد کی بھی پیش کش کی۔

کوئٹہ کے نواح میں پولیس کے تربیتی کالج پر آتشیں ہتھیاروں سے مسلح اور خودکش جیکٹس پہنے جنگجوؤں نے سوموار کی شب حملہ کیا تھا۔انھوں نے کالج کے ہاسٹلوں میں داخل ہونے کے بعد سوئے ہوئے پولیس کیڈٹس پر پہلے فائرنگ کی تھی اور پھر ان میں سے دو نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا اور تیسرے کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کے دوران ہلاک کردیا تھا۔دہشت گردوں کے اس حملے میں 61 افراد جاں بحق اور 124 زخمی ہوگئے تھے۔

فرنٹئیر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل شیر افگن نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ''پکڑی گئی مواصلاتی گفتگو سے پتا چلا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکر جھنگوی کے العالمی گروپ سے تھا۔انھیں افغانستان سے ہدایات مل رہی تھیں''۔عراق اور شام میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے بھی اپنی اعماق نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری کردہ بیان میں اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں