بھارت کا پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو بے دخل کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے عملہ کے ایک رکن کو مبیّنہ طور پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزام میں بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کے سیکریٹری خارجہ نے آج جمعرات کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کیا ہے اور انھیں مطلع کیا ہے کہ ان کے عملہ کے ایک رکن کو جاسوسی کی سرگرمیوں کے الزام میں ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا گیا ہے۔

بھارت کی وزارت برائے امورخارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے ایک ٹویٹ میں اس پاکستانی اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کی اطلاع دی ہے۔

دہلی پولیس کے کرائم کمشنر ریوندرا یادو نے قبل ازیں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ اس پاکستانی اہلکار کو بدھ کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے قبضے سے دفاعی اور دوسری دستاویزات ملی تھیں۔ان میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی سے متعلق معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

پاکستان کےسفارتی ذرائع کے مطابق ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے ایک اہلکار محمود اختر کو بھارت سے چلے جانے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔پاکستانی ہائی کمیشن کی مداخلت کے بعد بھارتی پولیس نے انھیں تین گھنٹے تک زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کردیا تھا۔

دو اور عہدے داروں مولانا رمضان اور سبھاش جنگیر کو مذکورہ اہلکار کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ''ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارتی سیکریٹری خارجہ کے ساتھ عملہ کو زیر حراست رکھنے اور ان سے ناروا سلوک پر شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حراست 1961 کے ویانا کنونشن کے منافی ہے۔

انھوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنائے کہ اس طرح سفارتی عملہ کو ہراساں کرنے کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔انھوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے عملہ پر عاید کردہ الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کبھی ایسی کسی سرگرمی میں ملوّث نہیں ہوا ہے جو اس کے سفارتی وقار کے منافی ہو۔

ادھر اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس فعل سے بھارت کے ان اقدامات کی عکاسی ہوتی ہے جن کے ذریعے وہ پاکستانی ہائی کمیشن کے کام کے لیے سفارتی جگہ کو محدود کررہا ہے''۔

بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ایسے وقت میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کم وبیش روزانہ ہی فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اُڑی میں گذشتہ ماہ ایک فوجی اڈے پر حملے کے بعد پاکستان کو سفارتی سطح پر الگ تھلگ کرنے کے لیے مہم برپا کررکھی ہے۔ بھارت نے پاکستان پر بلاثبوت اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔اس واقعے کے بعد سے بھارتی لیڈر پاکستان کے خلاف تند وتیز بیانات جاری کررہے ہیں جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی مسلح افواج کے نہتے کشمیریوں پر مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے الزامات عاید کررہا ہے۔

حکومت پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے ہیں۔پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے اسلام آباد میں متعیّن امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو گذشتہ روز ہی آگاہ کیا تھا کہ افغانستان میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ (را) اور افغان خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کررہے ہیں اور یہ گروپ پاکستان میں نرم اہداف کو دہشت گردی کے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں