.

پرویز رشید کا استعفا، سکیورٹی اجلاس کی تفصیل کے افشاء کا شاخسانہ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اطلاعات ونشریات اور حکومت کے ترجمان پرویز رشید اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

مقامی نیوز چینلز نے ہفتے کے روز اپنے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے انھیں مستعفی ہونے کے لیے کہا تھا اور انھوں نے ہفتے کے روز اپنا استعفا پیش کردیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے موقر انگریزی روزنامہ ڈان میں ''جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کریں یا عالمی تنہائی کا سامنا کریں،سویلین نے فوج سے کہہ دیا'' کے عنوان تحت ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔اس میں پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور مکالموں کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔

وزیراعظم کے دفتر اور حکومت نے اس رپورٹ کے مندرجات کو مسترد کردیا تھا لیکن عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ بند کمرے کے اجلاس کی تفصیل افشا کرنے کے معاملے کی تحقیقات کی جائے اور اس کے ذمے داروں کا نام سامنا آنا چاہیے۔

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد ایک نشری نیوز کانفرنس میں اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور ابتدائی تحقیق کے مطابق پرویزرشید سے ان کا وزارتی منصب واپس لے لیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے ہی مبینہ طور پر مذکورہ اخبار کے رپورٹر سیرل المیڈا کو سکیورٹی اجلاس کی تفصیل فراہم کی تھی۔

اسی ماہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں کور کمانڈرز کے اجلاس میں شرکاء نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اہم سکیورٹی اجلاس کے بارے میں غلط اور من گھڑت معلومات کے افشاء پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور اس کو قومی سلامتی سے متعلق راز افشاء کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

درایں اثناء میڈیا کے ذریعے یہ بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اپنے خاندان کے ہمراہ ہفتے کے روز دبئی کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔اب یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کی دبئی روانگی کا ڈان کی مذکورہ اسٹوری کی تحقیقات سے بھی کوئی تعلق ہے یا نہیں۔