.

''مکہ کی جانب میزائل حملہ کرنے والے عالم اسلام کے دشمن ہیں''

پاکستان الحرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے سعودی حکومت کے ساتھ تعاون کرے: علماء کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی مختلف دینی سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے علماء نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی کوشش عالم اسلام کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر حملے کے مترادف ہے۔04 نومبر بروز جمعتہ المبارک کو ملک بھر میں اس ناپاک جسارت کے خلاف احتجاج کے لیے ”یوم دفاع ارض الحرمین الشریفین “ کے طور پر منایا جائے گا۔

انھوں نے یہ بات پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب میں منعقدہ ”دفاع ارض الحرمین الشریفین کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اعلیٰ سطح کا وفد سعودی عرب روانہ کرے اور الحرمین الشریفین کی سلامتی، دفاع اور استحکام کے لیے سعودی حکومت کے ساتھ ہر ممکن عملی تعاون کا اعلان کرے ۔

انھوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے ملت اسلامیہ کی وحدت ، بقاء اور سلامتی کے دشمن ہیں۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔ کانفرنس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش کو جرم عظیم قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں کا ہدف یمن یا سعودی عرب کی حکومت نہیں بلکہ مسلمانوں کے مقدسات ہیں اور ان کے دفاع کے لیے پورا عالم اسلام سعودی عرب کی حکومت ، سلامتی کے اداروں اور سعودی افواج کے ساتھ ہے۔

قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا فوری طورپر مکہ مکرمہ میں اجلاس بلایا جائے اور حوثی باغیوں کی طرف سے مرکز اسلام مکہ مکرمہ کی جانب ہونے والے حملے کے خلاف عالم اسلام متفقہ لائحہ عمل وضع کرے۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور افواج پاکستان کی یہ ذمے داری ہے کہ ارض حرمین شریفین کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کی وحدت کے مرکز ہیں۔ ان پر حملہ آور ہونے والوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ حوثی باغیوں نے سرخ لائن کو عبور کر دیا ہے۔اب مسلمانوں کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنے واضح لائحہ عمل کا اعلان کرنا چاہیے۔

جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا سردار محمد خان لغاری نے کہا کہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کی عقیدت کے مرکز ہیں اور ہم سعودی عرب کی حکومت اور عوام کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں ۔ حکومت پاکستان کو واضح طور پر مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش کے خلاف اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرنا چاہیے۔

تحریک تحفظ الحرمین الشریفین کے سربراہ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ پاکستان سمیت پورا عالم اسلام غم کی کیفیت میں ہے، حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف اب مزید خاموشی ناقابل قبول ہو گی۔ حکومت پاکستان اور اسلامی ممالک کی حکومتوں کو اب اپنے واضح لائحہ عمل کا اعلان کرنا چاہیے۔ جمعیت علماءاسلام (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی نے کہا کہ ارض الحرمین الشریفین کے دفاع اور سلامتی کے لیے تمام مکاتب فکر متحد ہیں۔ امت مسلمہ کو حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے۔