.

مریم اورنگزیب وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کی رکن مریم اورنگ زیب کو وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مقرر کیا ہے۔

وہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مختص نشستوں میں سے ایک پر منتخب ہوئی تھیں۔ وہ منگل کو وزیر مملکت کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گی۔ایوان صدر میں ایک تقریب میں صدر ممنون حسین ان سے حلف لیں گے۔

36 سالہ مریم اورنگ زیب اس وقت وزارت داخلہ کی پارلیمانی سیکریٹری کے فرائض انجام دے ر ہی ہیں،جبکہ وزیر مملکت بننے سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی بھی رکن تھیں۔ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب بھی رکن قومی اسمبلی ہیں۔ وہ وزیراعظم کی صاحب زادی مریم نواز شریف کے ساتھ کام کرچکی ہیں اور ان کی سربراہی میں تعلیمی شعبے کی نگرانی کے لیے قائم ٹیم کا بھی حصہ رہی ہیں۔

مریم اورنگزیب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انھوں نے لندن کے کنگز کالج سے ماحول اور ترقی کے مضمون میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان کی ایک جامعہ سے بھی معاشیات کے مضمون میں ماسٹرز کیا تھا۔

سابق وزیر اطلاعات ونشریات اور حکومت کے ترجمان پرویز رشید ہفتے کے روز انگریزی اخبار ڈان کی ایک متنازعہ رپورٹ کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔وزیراعظم میاں نواز شریف نے ان سے وزارت کا منصب واپس لے لیا تھا اور انھیں مستعفی ہونے کے لیے کہا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے موقر انگریزی روزنامہ ڈان میں ''جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کریں یا عالمی تنہائی کا سامنا کریں،سویلین نے فوج سے کہہ دیا'' کے عنوان سے 7 اکتوبر کو ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔اس میں پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور مکالموں کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔

وزیراعظم کے دفتر اور حکومت نے اس رپورٹ کے مندرجات کو مسترد کردیا تھا اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہےکہ ایسی کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ ملک کی عسکری قیادت نے بند کمرے کے اجلاس کی تفصیل افشا کرنے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا کہا تھا کہ اس کے ذمے داروں کا نام سامنا آنا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد ایک نشری نیوز کانفرنس میں اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور ابتدائی تحقیق کے بعد پرویزرشید سے ان کا وزارتی منصب واپس لے لیا گیا تھا کیونکہ اس سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ انھوں نے ہی مبینہ طور پر مذکورہ اخبار کے رپورٹر سیرل المیڈا کو سکیورٹی اجلاس کی تفصیل فراہم کی تھی اور پھر اس رپورٹ کی اشاعت کو رکوانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔اب وزیراعظم میاں نوازشریف کے حکم پر اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہے جبکہ حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔بعض نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔