.

2 نومبر کو اسلام آباد میں دھرنا نہیں ،''تشکر ریلی'' ہوگی

عدالت عظمیٰ کی تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے شرائط کار پیش کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چئیرمین عمران خان نے 2 نومبر کو دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کے بجائے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں پریڈ گراؤنڈ میں تشکر ریلی نکالی جائے گی۔

عمران خان نے منگل کی سہ پہر اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان تمام کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے جو کرپشن کے خلاف جدوجہد میں شریک رہے ہیں۔انھوں نے اپنے حامیوں اور کارکنان سے کہا کہ وہ اپنے گھروں کو چلے جائیں اور کل یعنی بدھ کو پریڈ گراؤنڈ میں تشکر ریلی میں شرکت کے لیے آئیں۔

انھوں نے کہا: ''مجھے خوشی ہے کہ نواز شریف کی مبینہ کرپشن کے خلاف پرسوں تحقیقات شروع ہوجائے گی''۔ وہ عدالت عظمیٰ کے آج کے ایک فیصلے کا حوالہ دے رہے تھے جس نے شریف خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کے ضمن میں لگائے گئے بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔انھوں نے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لیے اپنے صوبے سے اسلام آباد کی جانب اپنے حامیوں سمیت یلغار کی تھی لیکن پنجاب کی پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے انھیں صوبے کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور اس دوران ان پر اشک آور گیس کی شیلنگ بھی کی گئی تھی۔

حکومت کا خیر مقدم

حکومت نے عمران خان کی جانب سے احتجاجی دھرنے کی کال واپس لینے کا خیرمقدم کیا ہے۔وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ یہ کسی کی ہار یا جیت نہیں ہے بلکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جیت ہے۔انھوں نے گذشتہ چند روز کے دوران جڑواں شہروں کے مکینوں کو سڑکوں اور گذرگاہوں پر حکومت کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں سے درپیش آنے والی مشکلات پر معذرت کی ہے۔

وزیر ریلوے نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ''ہم عمران خان کے دھرنے کی کال واپس لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ہمیں اعلیٰ عدالت پر اعتماد کرنا چاہیے''۔

عمران خان نے 2 نومبر کو اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان کررکھا تھا۔اس احتجاجی دھرنے کو روکنے کے لیے حکومت نے وفاقی دارالحکومت میں پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی تھی اور شہر کے تمام داخلی راستوں پر کنٹینرز اور دوسری رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں تا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو داخلے سے روکا جاسکے۔

اس دوران پی ٹی آئی کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد بنی گالا میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ان کی وہاں اور شہر کے دوسرے علاقوں میں پولیس کے ساتھ گذشتہ چار پانچ روز سے دھینگا مشتی جاری تھی اور تشدد آمیز کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پی ٹی آئی متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔البتہ ان میں سے بیشتر کو چند گھنٹے زیر حراست رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

حکومت کا مؤقف تھا کہ ان کارکنان کو اسلام آباد میں نافذ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اسی دفعہ کے نفاذ کے ذریعے حکومت پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد کو اسلام آباد میں جمع ہونے سے روکنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ عمران خان اپنے کارکنان کی بڑی تعداد کو جمع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نتیجۃً انھوں نے اپنا احتجاجی دھرنا ہی منسوخ کردیا ہے اور اب وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو اپنی فتح عظیم قرار دے رہے ہیں۔

پاناما پیپرز تحقیقاتی کمیشن

عدالت عظمیٰ نے پاکستان مسلم لیگ اور تحریک انصاف دونوں کو پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل سے متعلق اپنی اپنی شرائط کار پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل کے مطابق اگر دونوں جماعتوں میں شرائط کار سے متعلق کوئی اتفاق رائے نہ ہوسکا تو پھر عدالت عظمیٰ خود فیصلہ کرے گی۔اس کمیشن کو عدالت عظمیٰ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے۔عدالت اب اس کیس کی مزید سماعت 3 نومبر کو کرے گی۔

چیف جسٹس ،جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے آج اس کیس کی سماعت کی ہے اور چیف جسٹس نے دونوں جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں۔انھوں نے کہا کہ ''ہمیں اس ملک کو بد امنی اور بحران سے بچانا ہے۔پانا پیپرز کے ایشو سے پورا ملک متاثر ہوا ہے''۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد ہی پی ٹی آئی نے احتجاجی دھرنے کی کال واپس لی ہے اور اس کے بعد حکومت نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو شاہراہوں اور داخلی راستوں پر کھڑی رکاوٹیں اور کنٹینرز ہٹانے کا حکم دے دیا ہے اور پولیس نے انھیں ہٹانا شروع کردیا ہے۔