.

بلوچستان : خضدار میں مزار پر بم دھماکا ،52 افراد ہلاک ،110 زخمی

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک صوفی بزرگ شاہ نورانی کے مزار کے احاطے میں بم دھماکے میں باون افراد ہلاک اور ایک سو دس زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ بم دھماکے میں بیرونی ہاتھ کارفرما ہے۔داعش نے مزار پر اس خود کش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔داعش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک کم سن بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑایا تھا۔اس نے حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی ہے۔داعش نے گذشتہ ماہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواح میں واقع پولیس اکیڈیمی پر تباہ کن خودکش حملے کی بھی ذمے داری قبول کی تھی۔

فرنٹیئر کور ( ایف سی) بلوچستان کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل شیر افگن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزار پر دھماکے کے لیے چھے کلوگرام بارود اور بال بیئرنگ استعمال کیے گئے تھے جس سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔انھوں نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ یہ بم دھماکا ایک خودکش بمبار نے کیا تھا۔

ضلعی حکام نے بتایا ہے کہ مہلوکین اور زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ شاہ نورانی کا مزار خضدار کے دور دراز پہاڑی علاقے میں واقع ہے اور اس وجہ سے امدادی رضاکاروں کو زخمیوں تک پہنچنے اور انھیں نزدیک واقع اسپتالوں میں منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ ضلع خضدار کے اس علاقے میں کوئی بڑا اسپتال نہیں ہے۔زخمیوں کو یہاں سے ایک سو کلومیٹر جنوب میں واقع شہر حب اور کراچی کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دھماکا ہفتے کی شام نماز مغرب کے بعد ہوا ہے۔اس وقت مزار کے احاطے میں دھمال ڈالی جارہی تھی۔ امدادی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ واقعے کے وقت درگاہ کے احاطے میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ موجود تھے۔واقعے کے بعد برقی رو منقطع ہوگئی جس سے امدادی سرگرمیوں میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔مزار کو ایک جنریٹر کے ذریعے بجلی مہیا کی جا رہی تھی۔سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کرعلاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر پاک فوج کی امدادی ٹیمیں اور دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔انھوں نے شدید زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولتیں مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے اور فوج کی ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے شدید زخمیوں کو کراچی منتقل کیا جارہا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹویٹس کے ذریعے بتایا ہے کہ شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی کراچی منتقل کرنے کے انتظامات کیے جارہے ہیں اور مزید فوجی دستے بم دھماکے کی جگہ پر بھیجے جارہے ہیں۔

قبل ازیں صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بھی کہا تھا کہ بم دھماکے میں شدید زخمیوں کو کراچی منتقل کیا جائے گا۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ریاست کی جانب سے سکیورٹی میں کوئی سقم پایا گیا یا سرکاری اہلکاروں کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمے داروں کا احتساب کیا جائے گا۔

صوفی بزرگ شاہ نورانی کے مزار پر عام طور پر جمعے اور ہفتے کے روز بڑا رش ہوتا ہے ۔ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ وہاں آتے ہیں اور ایرانی شہری بھی اس جگہ آتے رہتے ہیں۔