.

کیا داعش پاکستان میں جنگجو بھرتی کررہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو تنظیم داعش پاکستان میں مبینہ طور پر موجود ازبک جنگجوؤں کو بھرتی کررہی ہے ،وہ ناراض طالبان کو اپنی جانب راغب کررہی ہے اور ملک کے ایک سخت گیر فرقہ پرست متشدد گروپ کے ساتھ بھی راہ و رسم بڑھا رہی ہے۔

اس بات کا انکشاف طالبان رہ نماؤں اور پولیس افسروں نے کیا ہے۔داعش نے ہفتے کی شام صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک صوفی بزرگ کے مزار پر خود کش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔اس بم حملے میں باون افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

داعش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے اس مزار پر دھماکا کیا تھا۔اس نے حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی ہے۔داعش نے گذشتہ ماہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواح میں واقع پولیس اکیڈیمی پر تباہ کن خودکش حملے کی بھی ذمے داری قبول کی تھی۔

تب دو طالبان عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ حملہ آور ایک ازبک تھا اور وہ ممکنہ طور پر اسلامی تحریک ازبکستان کا رکن تھا۔

حکام نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ پولیس اکیڈیمی پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں چھپے ہوئے جنگجوؤں نے کی تھی۔اس کا الزام شیعہ مخالف لشکر جھنگوی کے عالمی گروپ پر عاید کیا گیا تھا لیکن بعد میں داعش نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور لشکر جھنگوی کے ترجمان علی بن سفیان نے کہا تھا کہ ان کے جنگجوؤں نے داعش کے ساتھ مل کر یہ حملہ کیا تھا۔