.

فیٹو پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے: ترک صدر

داعش اور القاعدہ اسلام اور مسلم ممالک کے خلاف جنگ لڑنے والوں کی ایجنٹ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ فتح اللہ گولن دہشت گرد تنظیم (فیٹو) پاکستان کی سلامتی اور امن عامہ کے لیے ایک خطرہ ہے،اس لیے برائی کے اس نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جانا چاہیے ۔

وہ جمعرات کے روز اسلام آباد میں پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ترکی فیٹو کے خلاف کارروائی کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم دنیا بھر میں اپنے تمام دوستوں اور ممالک کو فیٹو کے خطرے سے خبردار کررہے ہیں''۔

واضح رہے کہ ترک صدر اور ان کی حکومت امریکی ریاست پنسلوینیا میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے علامہ فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک کو ''فتح اللہ گولن دہشت گرد تنظیم'' (فیٹو) کے نام سے پکارتے ہیں۔ترک صدر نے ان پر جولائی میں حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کا سرغنہ ہونے کے الزام کا اعادہ کیا ہے۔

رجب طیب ایردوآن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''اب یہ یقینی ہوچکا ہے کہ 15 جولائی کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے پیچھے گولن دہشت گرد تنظیم اور پنسلوینیا میں مقیم اس کے سربراہ کا ہاتھ تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''فیٹو خود کو قابل قبول تصورات ،خدمات کی فراہمی ،تعلیم اور ڈائیلاگ کے پیچھے چھپا رہی ہے لیکن ہم نے 15 جولائی کو دیکھا تھا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خونریزی سمیت کسی بھی طریق کار کو بروئے کار لانے سے گریز نہیں کرے گی''۔

ان کا کہنا تھا:''انھوں نے ترکی کی مسلح افواج،پولیس ،عدلیہ اور وزارتوں میں مختلف سطحوں پر ان معصوم تصورات کے جھنڈے تلے چھپ کر دراندازی کی کارروائیاں کی ہیں۔بغاوت کی رات انھوں نے ٹیکس دہندگان کی رقوم کو استعمال کرتے ہوئے سنگین قسم کی کارروائیاں کی تھیں اور ان کا آپ تصور ہی کرسکتے ہیں''۔

انھوں نے ارکان پارلیمان کو بتایا کہ ''انھوں نے ترکی کی قومی اسمبلی پر بمباری کی تھی،صدارتی کمپلیکس اور خصوصی فورسز کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے شہریوں پر بمباری کی تھی لیکن ہماری قوم نے آزادی اور جمہوریت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا''۔

انھوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے گولن تحریک کے خلاف اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ''اظہار یک جہتی اور حالیہ پیش رفت کا مظہر وہ فیصلہ ہے جس کے تحت پاک ترک اسکولوں کے عملہ کو 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔اب اس تنظیم کو پاکستان میں کوئی پناہ نہیں ملے گی''۔

انھوں نے اعلان کیا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان مشترکہ تعاون کے ذریعے پاک ترک اسکولوں کے طلبہ کو اعلیٰ معیاری تعلیم دلائی جائے گی۔اس معاملے میں پاکستانی انتظامیہ نے جس یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور اس تنظیم کے خلاف جو فیصلہ کن مؤقف اختیار کیا ہے،اس پر میں شکرگزار ہوں''۔

انھوں نے اپنی تقریر میں بعض پاکستانی کالم نگاروں اور اخبارات میں شائع ہونے والی تحریروں کا بھی حوالہ دیا ہے جو ان کے بہ قول معصومانہ بیانات اور ریمارکس جاری کررہے ہیں لیکن انھیں ترکی کی جانب سے خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔

صدر طیب اردوان نے اپنی تقریر میں امتِ مسلمہ کے اتحاد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ القاعدہ اور داعش ایسی دہشت گرد تنظیمیں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں اسلام اور مسلم ممالک کے خلاف جنگ لڑنے والوں کی ایجنٹ ہیں اور صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔انھیں مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ کشمیر میں حالیہ واقعات نے مسئلے کی سنگینی اور اس کے حل کی اہمیت کو پھر سے اُجاگر کر دیا ہے۔عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک سیاسی اور انسانی معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مذاکرات ہی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہےاور ترکی اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کو تیار ہے۔

قبل ازیں آج اسلام آباد میں وفود کی سطح پر بات چیت کے دوران پاکستان اور ترکی نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے سے اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات میں وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی وفد کی قیادت کی جبکہ ترک وفد کی قیادت صدر رجب طیب اردوان نے کی۔طرفین نے تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور آنے والے دنوں میں اسے مزید فروغ دینے کا فیصلہ کیا۔انھوں نے علاقائی صورت حال ،اہم عالمی اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترک صدر نے وزیراعظم میاں نوازشریف سے الگ سے بھی تنہائی میں ملاقات کی۔بعد میں مشترکہ نیوز کانفرنس میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ترکی جناب رجب طیب ایردوآن کی کرشماتی قیادت میں دنیا میں قیام امن کے لیے اپنا کردار اور ترقی کا عمل جاری رکھے گا۔