.

پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ، 47 مسافر جاں بحق

معروف نعت خواں جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی اسی جہاز میں سوار تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چترال سے اسلام آباد جانے والا پی آئی اے کا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب پہاڑی علاقے میں بدھ کے روز گر کر تباہ ہو گیا جس میں معروف نعت خواں جنید جمشید بھی اہلیہ کے ہمراہ سوار تھے۔

پاکستانی نیوز چینلز کے مطابق چترال سے اسلام آباد جانے والا پی آئی اے کا مسافر طیارہ پی کے 661 ایبٹ آباد میں حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کے انجن میں خرابی کے باعث حادثہ پیش آیا۔ طیارے کے پائلٹ صالح جنجوعہ اور احمد جنجوعہ معاون تھے جو آپس میں بھائی ہیں۔ اس کے علاوہ میں طیارے میں 2 ایئرہوسٹس صدف فاروق، عاصمہ عادل سوار تھیں۔ طیارے میں 31 مرد، 9 خواتین اور 2 بچے بھی سوار تھے جن میں معروف نعت خواں جنید جمشید اپنی دوسری اہلیہ نیہا کے ہمراہ تھے جب کہ ڈپٹی کمشنر چترال بھی اسی طیارے سے سفر کر رہے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر چترال نے ڈپٹی کمشنر چترال اور جنید جمشید کے طیارے میں موجود ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنید جمشید اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اس طیارے میں سوار تھے۔ جنید جمشید سیٹ نمبر 27 سی اور اہلیہ 27 اے پر بیٹھی تھیں۔

طیارہ صبح اسلام آباد سے مسافروں کو لے کر چترال گیا تھا جب کہ طیارے نے شام 4 بج کر 45 منٹ پر اسلام آباد پہنچنا تھا تاہم لینڈنگ سے کچھ ہی دیر پہلے طیارے کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اس سے قبل پائلٹ نے مدد کے لیے ایمرجنسی کال کی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ طیارے کا ایک انجن بند ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں پرواز میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد گر کر تباہ ہوا۔ پی آئی اے کے حادثے کے شکار ہونے والے طیارے میں موجود مسافروں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ طیارے میں 3 غیر ملکی بھی سوار تھے جن میں شاہی خاندان کا شہزادہ فرحت اور بیٹی بھی سوار تھی۔

ترجمان پی آئی اے دانیال گیلانی نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طیارے میں عملے سمیت 48 افراد سوار تھے۔ طیارہ تقریباً 10 سال پرانا تھا جب کہ اس نے 3 بج کر 40 منٹ پر ٹیک آف کیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ طیارے کی تلاش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں اور ایمرجنسی رسپانس سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ حادثے کے بعد حویلیاں کے اسپتال سمیت ایوب میڈیکل کمپلیکس اور بے نظیر ڈسٹرکٹ اسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ آرمی ہیلی کاپٹر اور فوجی دستے جائے حادثہ پر روانہ ہوگئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے ریسکیو اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق طیارے کو پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد گرتے ہوئے دیکھا جس کے بعد آگ کے شعلے بلند ہوئے اور طیارہ مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا۔