.

پاکستان کا کروز میزائل بابر کا کامیاب تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے بدھ کے روز اپنے تیار کردہ کروز میزائل بابر کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔یہ میزائل مختلف ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہے اور 700 کلومیٹر تک زمین اور سمندر میں مار کر سکتا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بابر کروز میزائل درست رہ نما نظاموں کی جدید تیکنیک ٹیرین کونٹور میچنگ (ٹرکام) ،ڈیجیٹل سین میچنگ اور ایریا کو ریلیشن سے لیس ہے جس کی بدولت وہ جی پی ایس کی عدم موجودگی میں بھی اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے۔

بابر کروز میزائل کے تجربے کے وقت چئیرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمود حیات ،اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے سینیر عہدے دار ،تزویراتی اداروں سے وابستہ فورسز ،سائنس دان اور انجینیرز موجود تھے۔اس موقع پر جنرل زبیر حیات نے کہا ہے کہ اس تجربے سے پاکستان کی سد جارحیت کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔

پاکستان نے قبل ازیں اس سال کے دوران اپنے جدید ترقی یافتہ کروز میزائل رعد کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔رعدمیزائل اپنی جدت اور جدید رہ نما نظام کی وجہ سے اعلیٰ پائے کا قابل اعتبار میزائل سسٹم ہے۔ اس کے تجربے کا مقصد اس کے مختلف ڈیزائن اور فنی پیرامیٹرز اور اے ایس ایف سی کی آپریشنل تیاریوں کی جانچ کرنا تھا۔

پاکستان نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے شاہین سوم بیلسٹک میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا تھا۔یہ میزائل زمین سے زمین میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 2750 کلومیٹر تک جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے ایک تھنک ٹینک خارجہ تعلقات کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کچھ عرصہ قبل کہا گیا تھا کہ پاکستان تیزی سے ترقی کرتے ہوئے جوہری پروگرام کا حامل ہے اور وہ سنہ 2020ء تک دو سو تک جوہری ڈیوائسز اور ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کونسل کے اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس اتنا ایندھن موجود ہے جس سے وہ 110 سے 120 تک جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے جبکہ اس کے حریف پڑوسی ملک بھارت کے پاس 90 سے 110 جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مواد موجود ہے۔