.

بھارت: جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر پٹھان کوٹ حملے میں ماخوذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نے پاکستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد اور اس کے سربراہ مسعود اظہر کو جنوری میں پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر تباہ کن حملے میں ماخوذ قرار دیتے ہوئے ان پر فرد الزام عاید کردی ہے۔

بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے (نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ،این آئی اے) نے الزام عاید کیا ہے کہ 2 جنوری کو پٹھان کوٹ کے ائیربیس پر دھاوا بولنے والے تمام چاروں مسلح افراد پاکستانی شہری تھے اور مسعود اظہر اس حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

این آئی اے کے ایک سینئر عہدے دار نے نئی دہلی میں کہا ہے کہ ''تمام دہشت گردوں پر بھارت کے خلاف جنگ مسلط کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ہمارے سکیورٹی ڈھانچے پر حملے کے لیے ایک مجرمانہ سازش کی گئی تھی۔

چار حملہ آور پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر دھاوا بولنے کے بعد اٹھارہ گھںٹے تک بھارتی سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔اس حملے میں سات بھارتی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور مارے گئے تھے۔

اس حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور دونوں ملکوں کی فوجوں میں آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان لائن آف کنٹرول پر آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

نئی دہلی میں بھارتی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ فرد الزام اور شواہد پاکستان کو مہیا کیے جائیں گے تاکہ وہ حملے میں مبینہ طور پر ملوّث ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرسکے۔بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینیر عہدہ دار کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کرے اور پھر انھیں بھارت کے حوالے کیا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے مولانا مسعود اظہر کو پٹھان کوٹ کے واقعے کے بعد حفاظتی تحویل میں لے رکھا ہے۔پاکستانی حکام نے بھی ان کے خلاف اس واقعے کی تحقیقات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں مسعود اظہر یا جیش محمد کے اس حملے میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور نہ انھیں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت بھارت کی جانب فراہم کیا گیا ہے۔