.

دمشق میں خودکش حملہ آور بچی کی باپ کے ساتھ ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ 16 دسمبر کو شامی حکومت کے زیر انتظام نیوز ایجنسی "SANA" نے پولیس کے حوالے سے بتایا تھا کہ دارالحکومت دمشق کے وسط میں ایک خودکش بم بار خاتون نے خود کو پولیس مرکز پر دھماکے سے اڑا لیا۔ تاہم منظرعام پر آنے والی ایک نئی وڈیو سے واضحے ہوتا ہے کہ المیدان کے علاقے میں ہونے والا یہ خودکش حملہ کسی خاتون نے نہیں بلکہ ایک بچی نے کیا تھا جس کی عمر دس برس سے زیادہ نہیں۔

فیس بک پر "استغفر الله استغفر الله" کے نام سے بنے اکاؤنٹ کے صفحے پر ایک وڈیو جاری کی گئی ہے جس میں ایک مرد کو دو بچیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ گفتگو کے مطابق مذکورہ مرد دونوں بچیوں کو ایک پولیس مرکز میں خودکش حملے کے لیے بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

صفحے کے صارف کی جانب سے فراہم کردہ معلومات میں بتایا گیا ہے کہ ان دونوں میں "فاطمہ" نامی بچی نے درحقیقت خود کو دھماکے سے اڑایا جب کہ اس کی بہن واپس گھر لوٹ آئی کیوں کہ پولیس نے اس کو مرکز کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

معلومات کے مطابق وڈیو میں نظر آنے والے بچیوں کے باپ کا نام ابو نمر ہے۔ "جبہۃ النصرہ" نامی تنظیم کے سابق رکن کے طور پر معروف شخص کا تعلق دمشق کے نواحی علاقے غوطہ سے ہے۔ علاقے سے تعلق رکھنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو اصلی ہے۔ وڈیو کو بچیوں کی ماں نے "فاطمہ دمشق پرحملے سے ایک روز قبل" کے عنوان سے پوسٹ کیا ہے۔

16 دسمبر کو ہونے والی اس خودکش کارروائی میں شامی حکومت کے زیر انتظام پولیس کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ کارروائی میں فاطمہ نامی حملہ آور بچی ماری گئی اور پولیس کے چند اہل کار زخمی ہوئے۔