.

پاکستان میں 5000 روپے کے کرنسی نوٹ زیرگردش رہیں گے

سینیٹ میں قرارداد کی منظوری کے بعد سب سے بڑی مالیت کے کرنسی نوٹ ختم کرنے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وزارت خزانہ نے پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو منسوخ کرنے سے متعلق افواہوں کی دوٹوک انداز میں تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ یہ نوٹ بدستور زیر گردش رہیں گے۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے سوموار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو منسوخ کرنے کا نہ تو کوئی فیصلہ کیا ہے اور نہ اس کا کوئی جواز ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ مالیت کا نوٹ پانچ ہزار روپے ہی کا ہے لیکن اس کی قدر دنیا کی دوسری بڑی کرنسیوں یعنی 100 ڈالرز کے نوٹ ، 200 یورو اور 50 پاؤنڈ اسٹرلنگ کے نوٹ سے کم ہے۔ سال 2015-2016ء کے دوران پانچ ہزارروپے مالیت کے صرف 17 فی صد نوٹ جاری کیے گئے تھے''۔

وزارت خزانہ نے مزید وضاحت کی ہے کہ رقوم کے لین دین میں اس نوٹ کے استعمال کے پیش نظر حکومت اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ اگر پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کردیے جاتے ہیں تو اس سے تجارتی سرگرمیوں کے دوران میں رقوم کے لین دین میں منفی اثر پڑے گا اور اس سے لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے''۔

وزارت کا کہنا ہے کہ وہ رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی اور لوگوں کو ان کی دہلیز پر بنک کاری کی سہولت مہیا کرنے کے لیے بنک دولت آف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔اس سے لوگوں کے کرنسی پر انحصار میں کمی واقع ہوگی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ نے ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر پابندی عاید کردے اور زیر گردش نوٹوں کو واپس لے لے۔یہ قرارداد حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیٹر نے پیش کی تھی۔