.

تو یہ ہے بڑا اعلان: زرداری اور بلاول قومی اسمبلی کا انتخاب لڑیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق صدر اور حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے اعلان کیا ہے کہ وہ اور ان کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی نشست کا انتخاب لڑیں گے اور موجودہ پارلیمان کا حصہ بنیں گے۔

آصف زرداری اٹھارہ ماہ کی خود ساختہ جلا وطنی کے کے بعد منگل کے روز لاڑکانہ کے نزدیک گڑھی خدابخش میں اپنی شہید اہلیہ بے نظیر بھٹو کی نویں برسی کے موقع پر پی پی پی کے کارکنان اور حامیوں کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔

انھوں نے جلسے کے شرکاء سے مخاطب ہوکر کہا کہ '' میں آپ کو ایک اچھی خبر میں شریک کرنا چاہتا ہوں اور میں نے اس کا وعدہ کیا تھا۔بلاول اور میں اب (اسی وقت) انتخاب لڑیں گے اور اس پارلیمان میں بیٹھیں گے''۔

سابق صدر اپنے بیٹے اور پی پی پی کے چئیرمین کے ساتھ گذشتہ تین سال میں پہلی مرتبہ کسی عوامی جلسے میں نمودار ہوئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ وہ نواب شاہ سے اپنی بہن عذرا فضل پیچوہو کی نشست اور بلاول لاڑکانہ سے ایاز سومرو کی نشست پر انتخاب لڑیں گے۔

اگر پارٹی کی ہدایت کے مطابق عذرا فضل اور ایاز سومرو اپنی نشستیں چھوڑ دیتے ہیں تو پاکستان کا الیکشن کمیشن ان پر ضمنی انتخابات کا اعلان کرے گا۔اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ آصف زرداری اور بلاول زرداری بآسانی انتخاب جیت جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بلا مقابلہ ہی منتخب ہوجائیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ ''ہم نے پاکستان کو بچانے کی غرض سے جمہوریت اور سیاست کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ہم اس مغل شہنشاہ کو (آزادی سے) حکمرانی نہیں کرنے دیں گے''۔ ان کا اشارہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی جانب تھا۔

سابق صدر نے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ''میاں صاحب ہم نے آپ کو یہ جمہوریت ایک مقدس امانت اور اعتماد کے طور پر دی تھی۔ہم نے آپ کے لیے ہر فیصلہ کیا۔ہم نے پارلیمان میں اتفاق رائے سے فیصلے کیے تھے مگر بڑی افسوس کی بات ہے کہ آج آپ اپنے تمام وعدے بھول چکے ہیں''۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ پاناما گیٹ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمان میں زیر بحث لایا جائے اور تمام سیاسی جماعتیں اس کا جائزہ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ ''ہم آپ اور آپ کے ججوں کو تاریخ میں باوقار شخصیات کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور انھیں ایسے لوگوں میں شمار نہیں کرنا چاہتے ہیں جو اپنے مفادات کے لیے قانون کا بازو مروڑ دیتے ہیں''۔

آصف زرداری نے کہا: ''یہ ہمارا حق ہے۔ہم احتجاج کریں گے،اپنے جمہوری حق کو استعمال کریں گے۔عدالت اور بار کونسلوں میں جائیں گے اور جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس پر اور جو کچھ رونما ہونا چاہیے ،اس پر بات کریں گے''۔

ان کے سیاست کے داؤ پیچ سیکھنے کے لیے کوشاں بلاول زرداری نے بھی حکومت کے خلاف تند وتیز تقریر کی اور حکومت کو خبردار کیا کہ ان کی جماعت اپنے چار مطالبات کے حق میں''لانگ مارچ'' کی تیاری کررہی ہے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ہم نے اس کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

پیپلز پارٹی نے حکومت سے یہ چار مطالبات کر رکھے ہیں:پاناما بل کا مسودہ منظور کیا جائے۔ایک مستقل وزیر خارجہ کا تقرر کیا جائے۔قومی سلامتی پر پارلیمان کی کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے اور کثیر جماعتی کانفرنس میں پاکستان چین اقتصادی راہداری سے متعلق منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کیا جائے۔