.

جسٹس ثاقب نثار پاکستان کے پچیسویں چیف جسٹس ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان کے پچیسویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔صدر ممنون حسین نے ایوان صدر میں ہفتے کے روز منعقدہ ایک تقریب میں ان سے حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم میاں نوازشریف ،چیئرمین سینیٹ رضا ربانی ،قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق،وفاقی وزراء ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان ،سفارت کار اور عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان بھی موجود تھے۔

صدر پاکستان نے جسٹس ثاقب نثار کو 7 دسمبر کو عدالت عظمیٰ کا چیف جسٹس مقرر کیا تھا۔ ان کے پیش رو عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی جمعے کو اپنی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔انھیں 15 ستمبر 2015ء کو عدالت عظمیٰ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔

جسٹس ثاقب نثار کو 18 فروری 2010ء کو عدالتِ عظمیٰ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔اس سے پہلے وہ عدالتِ عالیہ لاہور کے جج تھے۔ وہ جج بننے سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن رہے تھے۔ وہ 1991ء میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری منتخب ہوئے تھے۔

وہ 18 جنوری 1954ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے کیتھڈرل ہائی اسکول لاہور سے میٹرک کیا تھا۔گورنمنٹ کالج لاہور سے بیچلر اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

انھوں نے 2 مئی 1980ء کو وکالت کا آغاز کیا تھا۔1982ء میں لاہور ہائی کورٹ کے وکیل بنے تھے اور 1994ء میں سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے ان کا اندراج ہوا تھا۔ انھیں 29 مئی 1997ء کو وفاقی سیکریٹری قانون مقرر کیا گیا تھا اور وہ اس اہم عہدے پر براہ راست فائز ہونے والے بار کے پہلے رکن تھے۔جسٹس ثاقب نثار کو 22مئی 1998ء کو ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔

وہ دیوانی ،تجارتی ،ٹیکس اور آئینی قوانین میں تخصص کے حامل ہیں اور وہ عدالت عالیہ لاہور اور عدالت ِ عظمیٰ میں اہم آئینی مقدمات کی سماعت کے لیے مقرر کردہ بنچوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔