.

کرم ایجنسی : پارا چنار میں بم دھماکا ، 25 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدرمقام پارا چنار میں بم دھماکے میں 25 افراد جاں بحق اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

کرم ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پارا چنار کی سبزی منڈی میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکا کیا گیا ہے اور دھماکا خیز مواد پھلوں کی پیٹی میں چھپایا گیا تھا۔ ۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر ایجنسی ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کردیا جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

دھماکے کے وقت سبزی منڈی میں لوگوں کا رش تھا جبکہ اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کے باعث زخمیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ساجد طوری کا کہنا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے ،اس لیے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ دیسی ساختہ بارودی سرنگ کا دھماکا ہفتے کی صبح 8 بج کر 50 منٹ پر کیا گیا۔ فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے تخریب کاروں کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے میں شدید زخمی ہونے والوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دوسرے شہروں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

دھماکے پر رد عمل

پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے پارا چنار میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے بھی پارا چنار دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں پر حملہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔انھوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے اور شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔