.

پاکستان اور بھارت کے قانون سازوں کے درمیان دبئی میں مذاکرہ

شرکاء کا ترقی کے عمل میں غریبوں کو نظرانداز کرنے پر اظہارِ تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر حالیہ مہینوں کے دوران میں کشیدگی کی وجہ سے امن عمل تعطل کا شکار ہے۔ ایسے میں دونوں ملکوں کے ارکان پارلیمان اور عہدہ دار دبئی میں بدھ کے روز مل بیٹھے ہیں اور انھوں نے غربت کے خاتمے سمیت باہمی تشویش کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اس نویں مذاکرے کا اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اور ٹرانسپرینسی (پلڈاٹ) نے کیا تھا۔اس میں دونوں ملکوں کی پارلیمانوں اور پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں کے ارکان ،ماہرین اور میڈیا کے نمائندے شریک ہوئے ہیں۔

اس مذاکرے کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ '' شرکاء نے پائیدار اقتصادی شرح نمو کی رفتار تیز کرنے پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ غربت کے خاتمے کے لیے ایک اہم پالیسی مقصد ہے۔اس پالیسی کے لیے دونوں ملکوں کے نظم ونسق کے اداروں میں اصلاحات متعارف کرائی جانی چاہییں''۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے سماجی تحفظ کے مختلف پروگراموں پر روشنی ڈالی جن کے نتیجے میں ملک میں غربت کے خاتمے میں مدد ملی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کے لیے ترقی کا عمل پائیداری اور برابری کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے اور اس میں حکومت کے علاوہ تمام متعلقہ فریقوں کو بھی شریک کیا جانا چاہیے۔

غربت اور اسلحہ

مذاکرے کے شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ جنوبی ایشیا اور عالمی سطح پر غربت میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔البتہ ان میں کامیاب حکمت عملیوں کے حوالے سے عدم اتفاق پایا گیا۔شرکاء کا خیال تھا کہ اگر دونوں ملک اسلحے کی خرید پر رقوم صرف کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو اس سے لوگوں کی فلاح وبہبود کو نقصان پہنچے گا۔

بیان کے مطابق :'' مذاکرے میں پاکستان اور بھارت دونوں کے معاشروں میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔شرکاء کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں میں امیر اور غریب کے درمیان فرق کو مٹانے اور غربت کے خاتمے کے لیے جامع اقتصادی حکمت عملیاں اختیار کی جانی چاہییں۔شرکاء نے منصوبہ بندی کے عمل اور ترقیاتی سکیموں میں غریبوں کو بے دخل کرنے پر بھی روشنی ڈالی''۔

شرکاء نے حکومتوں کی جانب سے مکانات ،صحت عامہ ،تعلیم اور دوسرے سماجی شعبوں میں اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا۔ انھوں نے خوراک کے تحفظ کو پاکستان اور بھارت کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا۔