.

پاکستان اور افغانستان میں برفانی تودے گرنے سے 120 افراد جاں بحق

چترال میں تودے گرنے سے 14 افراد جاں بحق ،افغان صوبے نورستان میں 50 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور افغانستان میں گذشتہ دو روز میں شدید برف باری کے نتیجے میں تودے گرنے اور سڑک حادثات میں ایک سو بیس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے شمالی پہاڑی ضلع چترال کے علاقے شیرشال میں تودے گرنے سے چودہ افراد جاں بحق اور کم سے کم دس زخمی ہوگئے ہیں۔چترال اسکاؤٹس کے کمانڈینٹ کرنل نظام الدین شاہ نے بتایا ہے کہ ملبے سے چھے عورتوں ،چھے بچوں اور دو مردوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ واقعے میں زخمی ہونے والے نو افراد کو سول اسپتال گرم چشمہ منتقل کردیا گیا ہے۔

چترال ہی میں افغانستان کی سرحد کے نزدیک پشوتان کے علاقے میں چترال اسکاؤٹس کی ایک چوکی پر ایک اور تودہ گر گیا جس سے فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ایک فوجی جاں بحق اور چھے زخمی ہوگئے۔

کرنل شاہ نے مزید بتایا ہے کہ علاقے میں تودے گرنے سے پچیس مکانات ملبے تلے دب گئے ہیں اور پانچ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

اس ضلع میں گذشتہ دو روز سے شدید برف باری ہورہی ہے جس کے پیش نظر ضلع ناظم مغفرت شاہ کے بہ قول متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کردیا گیاہے۔ تاہم بعض لوگ اسی علاقے میں رہ گئے تھے جو آج اتوار کے روز تودے گرنے سے متاثر ہوئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چترال فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دستے مقامی سول انتظامیہ اور نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی شیر شال کے علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں مدد کررہے ہیں۔ایک فوجی ہیلی کاپٹر بھی متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور زخمیوں کو اسپتال میں منتقل کرنے کے لیے روانہ کردیا گیا ہے۔

افغانستان میں ہلاکتیں

ادھر پڑوسی ملک افغانستان کے دارالحکومت کابل اور شمالی اور وسطی صوبوں میں گذشتہ تین روز سے شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور برفانی تودے گرنے اور سڑک حادثات میں ایک سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

افغان صوبے نورستان کے صرف ایک گاؤں میں تودے گرنے سے کم سے کم پچاس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ صوبے کا ایک اور گاؤں بھی تودے گرنے سے دب چکا ہے اور وہاں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

افغانستان کے شمالی ،وسطی اور شمال مشرقی صوبوں میں تودے گرنے سے چوّن افراد مارے گئے ہیں۔ان صوبوں کے میدانی علاقوں اور شاہراہوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ رکھی ہے جس کی وجہ سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے اور بڑی شاہراہیں برف سے ڈھک جانے سے آمد ورفت کے لیے بند ہوچکی ہیں۔

افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں گذشتہ دو روز میں تودے گرنے، چھتیں منہدم ہونے اور سڑک حادثات میں انیس افراد جاں بحق اور سترہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ بدخشاں کے بارہ اضلاع ملک کے دوسرے علاقوں سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے ہیں اور ان تک رسائی کی کوشش کی جارہی ہے۔

کابل سے قندھار جانے والی شاہراہ بھی برف باری سے بری طرح متاثر ہوئی ہے اور پولیس اور فوج نے وہاں پھنسی ہوئی ڈھائی سو کاروں اور بسوں کو نکالا ہے۔ صوبہ غزنی کی حکومت کے ترجمان جاوید سالانگی کے مطابق بعض علاقوں میں دو میٹر تک برف پڑ چکی ہے۔

افغان پولیس کے ایک جنرل رجب سالانگی کے مطابق کابل کے شمال میں واقع درہ سالانگ بھی شدید برف باری کی وجہ سے بند ہوچکا ہے اور وہاں ڈھائی میٹر تک برف پڑ چکی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ''جب تک برف کو وہاں سے ہٹا نہیں دیا جاتا ،اس وقت تک یہ درّہ بند رہے گا''۔