پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگادی

انڈونیشیا میں اسکول کے طلبہ کا ویلنٹائن ڈے منانے کے خلاف پرزور احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے ملک بھر میں عوامی مقامات اور سرکاری دفاتر میں مغربی تیوہار ویلنٹائن ڈے منانے پر فوری طور پر پابندی عاید کردی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوموار کے روز پابندی کا یہ حکم ایک شہری کی دائرکردہ درخواست پر جاری کیا ہے جس میں درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ''ویلنٹائن ڈے کو معاشرے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں ،اخلاق باختگی اور بے حیائی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور یہ ہماری معاشرتی اقدار اور روایات کے خلاف ہے''۔

عدالت کے جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنے حکم میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ہدایت کی ہے کہ وہ ویلنٹائن ڈے کی تشہیر سے گریز کرے۔انھوں نے پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو بھی ہدایت کی ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے حق میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینلوں کی نگرانی کرے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔

پاکستان کی اسلامی جماعتوں اور تنظیموں نے عدالت کے اس حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔تاہم اس عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد میں بعض ریستورانوں کی جانب سے ویلنٹائن ڈے منانے کے لیے گاہکوں کو ایس ایم ایس بھیجنے کا سلسلہ جاری تھا۔

ملک میں مٹھی بھر منچلے ہرسال 14 فروری کو اس مغربی تیوہار کے موقع پر ہلہ گلا کرتے نظر آتے ہیں اور وہ اپنی جاننے والی لڑکیوں سے کارڈز ،چاکلیٹس اور تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں لیکن ملک کی اکثریت ایسی مغربی خرافات کو منانے سے گریز کرتی ہے۔

گذشتہ سال پاکستان کے صدر ممنون حسین نے قوم پر زوردیا تھا کہ وہ ویلنٹائن ڈے منانے سے گریز کرے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دن کی مسلم اکثریتی قوم میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔انھوں نے نوجوانوں کو خاص طور پر ہدایت کی تھی کہ وہ ویلنٹائن ڈے منانے سے گریز کریں کیونکہ اس دن کا ہماری تہذیب وثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرے اعلیٰ عہدہ داروں نے بھی اس کو لچرپن اور غیر شائستہ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

ادھر دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا میں اسکول کے طلبہ نے سوموار کے روز ویلنٹائن ڈے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور اس کو مغربی تیوہار قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

انڈونیشیا کے شہر سورابایا میں ایک اسکول کے تیرہ سے پندرہ سال کی عمر کے طلبہ نے ویلنٹائن ڈے کے خلاف پرزور احتجاج کیا ہے اور وہ اس کے منانے کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے۔احتجاجی مظاہرے میں بہت سی طالبات بھی شریک تھیں اور انھوں نے سرپوش اوڑھ رکھے تھے۔

واضح رہے کہ یہ دن قرونِ وسطیٰ میں ایک عیسائی نوجوان کے محبت کی پاداش میں قتل کی یاد میں منایا جاتا ہے۔مسلم ممالک میں اس دن کو منانے کے حوالے سے دو آراء پائی جاتی ہیں۔محدود مغرب زدہ طبقہ اس کو منانے کے حق میں ہے اور وہی اس طرح کی خرافات کے موقع پر پیش پیش نظر آتا ہے جبکہ اسلامی اقدار کے پاس دار ایسے ایام منانے کے سخت مخالف ہیں جن کی اسلامی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے اور جو مغربی اساس رکھتے ہیں۔

دوسرے ممالک کے علاوہ اسلام کی جائے پیدائش سعودی عرب میں بھی اب آہستہ آہستہ روایتی پابندیاں ٹوٹ رہی ہیں۔وہاں بھی ویلنٹائن ڈے ایسی خرافات اپنی جگہ بنا رہی ہیں اورنوجوان چوری چھپے یہ دن منانا شروع ہوگئے ہیں جبکہ علمائے دین اس کی مخالفت کررہے ہیں اور معاشرے کو مغرب زدہ ہونے اور مغربی اثرات سے بچانے کے لیے اپنی سعی کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں