.

سیہون : لال شہباز قلندر کے مزار پر خودکش بم دھماکا ،70 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے صوبہ سندھ واقع قصبے سیہون شریف میں صوفی بزرگ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر جمعرات کی شام خودکش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ستر افراد جاں بحق اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

اس تباہ خودکش بم دھماکے میں ہلاکتوں اور زخمی افراد کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ صوبہ سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ نے بتایا ہے کہ بم دھماکے میں مرنے والے افراد کی تعداد بڑھ کر ستر ہوگئی ہے۔

سیہون شریف کے تعلقہ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر معین الدین صدیقی نے قبل ازیں بم دھماکے میں پچاس ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی اور بتایا کہ ان کے ہاں ایک سو زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

مزار کے گدّی نشین نے بتایا ہے کہ بم دھماکے میں پچاس افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ان میں چار بچے اور بارہ خواتین بھی شامل ہیں۔ دہشت گردی کے اس واقعے کے فوری بعد امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں اور زخمیوں کو مقامی اسپتالوں کے علاوہ نزدیک واقع شہر جامشورو میں لیاقت میڈیکل کمپلیکس میں بھی منتقل کیا جارہا ہے۔علاقے کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔

سیہون کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) نے بتایا ہے کہ حملہ آور بمبار مزار کے سنہرے دروازے سے اندر داخل ہوا تھا۔اس نے پہلے ایک دستی بم پھینکا تھا اور وہ نہیں پھٹا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق نماز مغرب کے وقت بم دھماکا مزار کے احاطے میں اس جگہ ہوا ہے جہاں دھمال ڈالی جارہی تھی۔ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر جمعرات کو زائرین کا بہت رش ہوتا ہے اور صوبے کے دوسرے اضلاع سے بھی لوگ بڑی تعداد میں وہاں آتے ہیں۔دریائے سندھ کے کنارے آباد سیہون شریف ضلع جامشورو میں واقع ہے اور یہ صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا انتخابی حلقہ ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صوبے میں تعینات فوجی افسروں کو بم دھماکے کے بعد سول حکام کو فوری مدد مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔پاک آرمی کے دستے اور امدادی ٹیمیں سیہون شریف کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔ صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں واقع کمبائنڈ ملٹری اسپتال کو بھی زخمیوں کی منتقلی کے لیے الرٹ کردیا گیا ہے۔