.

''مسلم نیٹو'' کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے تقرر کا عقدہ لا ینحل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے بیشتر تجزیہ کاروں اور مبصرین کے نزدیک سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر تقرر ابھی تک ایک سربستہ راز ہے۔ان کے نزدیک اس اعلان کے بعد سے اس ضمن میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے یا وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ درحقیقت ہوا کیا ہے؟

اس تشکیک کے باوجود جنرل راحیل شریف دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے انتالیس ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد کی قیادت کررہے ہیں اور اس کو درست سمت میں ایک قدم سمجھا جارہا ہے۔مبصرین کے نزدیک پاکستان کے عرب دنیا کے ساتھ تعلقات میں بعض مواقع پر شکررنجیاں تو رہی ہیں مگر اس کے باوجود وہ فوجی سطح پر عرب دنیا کی اسکیم میں شامل ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک سکیورٹی تجزیہ کار عرشی سلیم کا کہنا ہے کہ ''جنرل راحیل شریف کے نئے تقرر کے اعلان سے ملک میں ایک بحث چھڑ گئی تھی۔ جس انداز میں یہاں نظام کام کرتا ہے،اس میں ابھی تک اس تقرر کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کیونکہ اس کی حکومت کی جانب سے توثیق ضروری ہے''۔

ان کے نزدیک حکومت ابھی تک اس کو ایک تجویز خیال کررہی ہے اور ملک کے بہترین مفاد میں کوئی فیصلہ کرے گی۔معاملہ خواہ کچھ ہی ہو ،ان کے تقرر کے بارے میں فوجی ذرائع کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

آرمی پروٹوکول

عرشی سلیم کا کہنا ہے کہ ''اگر کوئی فوجی عہدہ دار ریٹائر ہوتا ہے تو وہ ایک معیّن عرصے تک کوئی اور عہدہ قبول نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس کے کام سے حساسیت جڑی ہوتی ہے۔خاص طور پر ایک آرمی چیف سکیورٹی سے متعلق بہت سے ریاستی معلومات کا رازداں ہوتا ہے''۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ''ابھی یہ واضح نہیں کہ کیا یہ مشاورتی عہدہ ہوگا یا عسکری حکمت عملی وضع کرنا اس کی ذمے داری ہوگی یا وہ برسر زمین فورسز کی کمان کرے گا۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ اگر وہ اس پیش کش کو قبول کرتے ہیں تو یہ مسلح فوجوں کی قیادت کے بجائے ایک مشاورتی عہدہ ہو گا''۔

اسٹریٹفور، امریکا میں مرکز برائے مشرقِ وسطیٰ اور جنوب ایشیائی امور کے نائب صدر کامران بخاری کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بہت تھوڑی تفصیل دستیاب ہے اور بعض بنیادی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں سے ماورا یقین سے کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔

ان کے نزدیک صورت خواہ کچھ ہی ہو ،اسلام آباد کی کچھ تحدیدات ایسی ہیں جس سے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ وہ کیسے اس مہم کا حصہ بننے پر آمادہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ایک ریٹائرڈ جنرل شریف کو فوجی اتحاد کی قیادت کے لیے پیش کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔وہ پاکستان آرمی کے گذشتہ عشروں کے دوران میں سب سے مقبول جنرل ثابت ہوئے ہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اس فوجی اتحاد کی قیادت کے لیے ان کے تقرر پر ملک میں کوئی تنازعہ کھڑا نہیں ہوگا۔

پیش رفت جاری ہے

دفاعی تجزیہ کار عواد مصطفیٰ نے اس معاملے کو بین السطور جاننے کی کوشش کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اتحاد 2015ء میں معرضِ وجود میں آیا تھا۔تب عرب لیگ نے معاہدہ شمالی اوقیانوس کے طرز پر''عرب نیٹو'' کے نام سے ایک سریع الحرکت فوج کی تشکیل کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''عرب نیٹو منصوبے کے تحت ایک فضائی ،بحری اور زمینی فوج تشکیل دی جانا تھی۔اس کو تنازعات کی صورت میں مداخلت کے علاوہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف خصوصی کارروائیوں کی بھی ذمے داری سونپی جانا تھی''۔

ان کے نزدیک جنرل راحیل شریف کا تقرر اس فورس کی تشکیل اور رکن ممالک کے درمیان ابلاغ کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔اس وقت اتحاد میں شامل ممالک میں صرف جی سی سی ریاستیں ہی لڑائی کے تجربے کی حامل ہیں۔سعودی عرب ، کویت ،قطر ،بحرین اور متحدہ عرب امارات سب مل کر یمن میں کام کررہے ہیں اور(حوثی باغیوں کے خلاف) باقاعدہ فوجی قوت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

دنیا کے اس حصے میں ایک اتحاد کی تشکیل کا یہ کوئی پہلا منصوبہ نہیں ہے۔مثال کے طور پر رعد الشمال کے نام سے مشق میں ترکی ،سوڈان ،اردن اور دوسرے ممالک کی فوجوں نے حصہ لیا تھا اور ایک طرح سے ان کی فوجوں کے درمیان ایک رابطہ قائم ہوگیا تھا۔

جنرل راحیل شریف کو اس پلیٹ فارم سے ہی فوجی اتحاد تشکیل دینا ہوگا۔اس کے علاوہ ایک سیاسی ڈھانچا بھی بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں کارروائیوں کو سہولت کاری بہم پہنچائی جاسکے۔

عواد مصطفیٰ کے بہ قول '' جنرل راحیل شریف پاکستانی افواج کو غیر روایتی جنگ کی تربیت دینے کے تجربے کے حامل ہیں۔انھوں نے تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی قیادت کی تھی۔ یہ ان کی کامیاب فوجی قیادت کی ایک واضح مثال ہے اور اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ کیوں دہشت گردی مخالف اسلامی فورس کے ڈھانچے کے قیام کے لیے ایک بہترین انتخاب ہیں''۔

ادارہ برائے مشرقِ قریب اور خلیج عسکری تجزیات کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ریاض قہواجی کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل کے انتخاب سے پاکستان اس اتحاد میں مزید کردار ادا کرے گا۔ اس سے جغرافیائی تزویراتی حقیقتوں کو سمجھنے کا بھی آغاز ہوتا ہے اور غالباً اس سے اس معاملے میں سست پیش رفت کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مختلف سطحوں پر طویل المیعاد تزویراتی تعلقات استوار ہیں۔یہ اتحاد ان کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم ستون ثابت ہوگا''۔

ان کے نزدیک پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری قوت ہے۔اس لیے اس کی جانب سے اس اتحاد کی بانی قیادت مہیا کرنے کا ایک منطقی جواز بنتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے میں جنرل راحیل شریف اتحاد کی کمان اور ڈھانچے کی تشکیل کے لیے عسکری حکمت عملی وضع کریں گے۔

تاہم قہواجی کا کہنا تھا کہ ''سب سے اہم معاملہ مسلم نیٹو کی تشکیل کے لیے مالی وسائل ،افرادی قوت اور درکار وسائل مہیا کرنے کے لیے رکن ممالک کی سنجیدگی کو دیکھنا ہوگا''۔

گروپ چار کی قیادت

اس تحریک کو ترکی میں بھی مثبت انداز میں دیکھا جارہا ہے ۔ترکی کو مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں مجبوراً مسلح مداخلت کرنا پڑی ہے اور وہ اس فوجی اتحاد کا ایک اہم رکن ملک ہے۔انقرہ مرکز برائے کرائسس اور پالیسی مطالعات کے صدر ڈاکٹر محمد صفتین ایرول کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کا تقرر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون ہی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ دہشت گردی مخالف اسلامی اتحاد کا ایک مشترکہ قدم بھی ہے جس میں ترکی سمیت چونتیس ممالک شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے 16 دسمبر 2015ء کو اعلان کردہ اسلامی فوجی اتحاد کے ضمن میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔نیز عالمی اور علاقائی سطح پر رونما ہونے والی پیش رفتوں کے پیش نظر اسلامی دنیا میں ایک علاقائی مسلم نیٹو کی ضرورت پیدا ہوگئی تھی اور اب اسلامی دنیا کو مختلف مشترکہ خطرات کے پیش نظر ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا''۔

ڈاکٹر محمد اس تمام بحث کا ان الفاظ میں احاطے کرتے ہیں کہ ترکی ،سعودی عرب ،پاکستان اور مصر کی قیادت میں اتحاد کو علاقائی اور عالمی استحکام ،امن اور سلامتی کے لیے ایک عالمی موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔