پاکستان اور افغانستان مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں گے: جنرل باجوہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنے ''مشترکہ دشمن'' دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنرل باجوہ نے یہ بات راول پنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راول پنڈی میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے ایک سکیورٹی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر مشترکہ دشمن سے نمٹنے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انھوں نے سرحدپار دہشت گردوں کی نقل وحرکت پر قابو پانے کے لیے پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان زیادہ موثر روابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جنرل باجوہ نے افغان حکام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف نتیجہ خیز کوششوں کے لیے باہمی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے دوسرے بڑے شہر لاہور اور صوبہ سندھ کے قصبے سیہون شریف میں تباہ کن خود کش بم دھماکوں کے بعد افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کو سیل کردیا ہے اور حکام نے غیر قانونی طریقے سے سرحد عبور کرکے پاکستانی علاقے میں داخل ہونے والوں کو موقع پر ہی گولی مارنے کا حکم جاری کیا تھا۔

پاکستانی فوج نے جمعے کی شب پاک افغان سرحد کے نزدیک جنگجوؤں کے خفیہ ٹھکانوں اور کمین گاہوں پر فضائی حملے کیے تھے اور بمباری کی تھی۔ فوج نے مبینہ طور پر کالعدم دہشت گرد گروپ جماعت الاحرار کے ایک تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا تھا۔اسی گروپ نے 13 فروری کو لاہور اور 15 فروری کو مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز میں خود کش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں پاکستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں میں ایک سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

پاکستان نے کابل حکومت سے افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوّث 76 پاکستانی دہشت گردوں کو حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا تاکہ ان کے خلاف مقدمات چلائے جاسکیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اسلام آباد میں افغان مشن کے نائب سربراہ کو طلب کرکے ان سے افغان سرزمین سے پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

درایں اثناء ایک امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجیوں کی سرحد پار راکٹ باری اور توپ خانے سے فائرنگ سے سیکڑوں افغان خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔نارویجئن ریفیوجی کونسل ( این آر سی) کے مطابق پاکستانی فوجیوں کی فائرنگ سے دو سو افغان خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔افغانستان میں این آر سی کی ڈائریکٹر کیٹ او رورک کا کہنا ہے کہ شہری سرحد پار فائرنگ کی زد میں آرہے ہیں اور بعض شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں