.

دہشت گردی: صوبہ پنجاب میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری

رینجرز پولیس کے مکمل اختیارات کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کہیں بھی کارروائی کرسکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی درخواست پر صوبے میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ فیصلہ بدھ کے روز اسلام آباد میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں کیا گیا ہے۔اجلاس میں وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ ،وفاقی سیکریٹری داخلہ عارف احمد خان ،صوبہ پنجاب کے چیف سیکریٹری زاہد سعید اور صوبائی حکومت کے دوسرے اعلیٰ عہدہ دار شریک تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق رینجرز کو ساٹھ روز کے لیے صوبے میں تعینات کیا جائے گا۔وہ پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کریں گے۔

پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے صوبے میں دوہزار سے زیادہ رینجرز اہلکاروں کو تعینات کرنے کی درخواست کی تھی۔انھیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جنگجوؤں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے پولیس کے اختیارات دیے جائیں گے اور وہ ضرورت پڑنے پر صوبے میں کہیں بھی کارروائی کرسکیں گے۔

واضح رہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت ماضی میں رینجرز کو پولیس کےاختیارات دینے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ توقع ہے کہ رینجرز صوبے کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور پنجاب پولیس کو وقتِ ضرورت ہی طلب کیا جائے گا۔ایک صوبائی عہدے دار کے مطابق رینجرز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ ( اے ٹی اے) کی شق پانچ کے تحت اختیارات دیے جا رہے ہیں اور دہشت گردی سے متعلق تمام مقدمات محکمہ انسداد دہشت گردی کے پولیس اسٹیشنوں میں درج کیے جائیں گے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کی مشہور شاہراہِ مال پر 13 فروری کو ایک تباہ کن خود کش بم دھماکے کے بعد رینجرز کو صوبے میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس خودکش بم دھماکے میں لاہور ٹریفک پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ریٹائرڈ کپتان مبین اور سینیر سپرنٹنڈنٹ پولیس زاہد نواز گوندل سمیت چودہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔