.

پاکستان آرمی کاملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ’’ ردّ الفساد‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آ رمی نے بدھ کے روز ملک بھر میں دہشت گردوں اور جنگجوؤں کے خلاف ’’آپریشن ردّ الفساد‘‘ کے نام سےایک نئی کارروائی شروع کردی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق آپریشن ردّ الفساد کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔دوسری فوجی کارروائیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو پائیدار بنایا جائے گا اور پاکستان کی سرحدوں کی سلامتی کو مزید یقینی بنایا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’’ پاکستان فضائیہ ، بحریہ ، سول آرمڈ فورسز اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے مسلح افواج کی کوششوں میں ہاتھ بٹائیں گے‘‘۔

بیان کے مطابق اس کوشش کے تحت پنجاب میں رینجرز انسداد دہشت گردی کے لیے وسیع تر کاررروائیاں کریں گے اور یہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے۔اس کے تحت سرحدوں پر سکیورٹی کے انتظام کو زیادہ موثر بنایا جائے گا۔ملک بھر سے ہتھیاروں کا خاتمہ اور دھماکا خیز مواد پر کنٹرول اس کا حصہ ہے اور قومی لائحہ عمل ( نیشنل ایکشن پلان) پر عمل درآمد اس آپریشن کا نشان ہوگا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ اعلان لاہور میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر صدارت ایک اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔اجلا س میں صوبے میں مسلح افواج کے کور کمانڈرز ،پاکستان رینجرز پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ،سراغرساں اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔قبل ازیں وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی درخواست پرصوبے میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔

آپریشن ردّ الفساد کا آغاز ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔اکیس فروری کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں سکیورٹی فورسز نے تین خودکش بمباروں کو ہلاک کردیا تھا۔اس حملے میں پانچ شہری بھی مارے گئے تھے ۔کالعدم جماعت الاحرار نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

سولہ فروری کو صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو میں واقع سیہون شریف میں صوفی بزرگ لال شہباز قلندر کے مزار پر خودکش بم دھماکے میں اٹھاسی افراد جاں بحق اور کم سے کم تین سو زخمی ہوگئے تھے۔اسی روز صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین فوجی شہید ہوگئے تھے۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کی مصروف شاہراہ مال پر تیرہ فروری کو ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران میں خودکش بم دھماکے میں تین سینیر پولیس افسروں سمیت چودہ افراد جاں بحق اور پچاسی زخمی ہوگئے تھے۔حملہ آور بمبار نے مال روڈ پر واقع پنجاب اسمبلی کی عمارت کے سامنے مظاہرے کے شرکاء کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیاتھا۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے ایک دہشت گرد دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔