پاکستانی جماعتوں کا فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی لیڈروں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع سے اتفاق کیا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے سینئر رہ نما شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں منگل کے روز پارلیمانی جماعتوں کے لیڈروں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ اجلاس میں شریک سبھی رہ نماؤں نے فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔

اس اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے پارلیمانی رہ نماؤں نے شرکت نہیں کی ہے۔پی پی پی نے اس معاملے پر غور کے لیے چار مارچ کو ایک کل جماعتی کانفرنس طلب کررکھی ہے۔تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ پی پی پی اپنی کانفرنس کے بعد اس فیصلے کی حمایت کرے گی اور اس پر چھے مارچ کو پارلیمان کے اجلاس میں بھی اتفاق رائے ہوجائے گا۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ متنازع فوجی عدالتوں کی بحالی کے لیے حمایت اس لیے کی جارہی ہے کیونکہ ملکی حالات کے پیش نظر یہ وقت کی ضرورت ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے جائیں گے تاکہ دو سال کے بعد ہم پھر فوجی عدالتوں میں مزید دو سال کی توسیع کے لیے مذاکرات نہ کررہے ہوں بلکہ ان عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں بھیجا جائے گا۔

سابق وزیر داخلہ اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ نے امید ظاہر کی ہے کہ فوجی عدالتوں کی میعاد میں یہ آخری مرتبہ توسیع ہوگی۔انھوں نے کہا کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں بار بار توسیع کی جائے۔

واضح رہے کہ آئین میں اکیسویں ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں دو سال کے لیے قائم کی گئی تھیں اور ان کی مدت جنوری 2017ء میں ختم ہوگئی تھی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان فوجی عدالتوں کی بحالی کے معاملے پر ایک تنازع پیدا ہوگیا تھا۔فوجی عدالتوں کے ناقدین ان میں مشتبہ ملزموں کے پراسرار انداز میں ٹرائل پر معترض رہے ہیں۔

ان عدالتوں میں سخت گیر جنگجوؤں اور دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز ،اہم سرکاری اور فوجی تنصیبات اور شہریوں پر دہشت گردی کے حملوں کے الزامات میں مقدمات چلائے جاتے رہے ہیں۔گذشتہ دو سال کے دوران میں بیسیوں دہشت گردوں کو ان عدالتوں نے سزائے موت سنائی تھی اور انھیں چیف آف آرمی اسٹاف کی منظوری کے بعد تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔تاہم بعض مجرم ابھی پھانسی پانے کے منتظر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں