.

ڈونلڈ ٹرمپ کو 'تبدیلی کا ایجنٹ' سمجھتا ہوں: پرویز مشرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق صدر جنرل [ریٹائرڈ] پرویز مشرف نے کہا ہے "کہ میں عمومی طور پر چیزوں کے بارے میں پرامید رہتا ہوں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی خصوصیات سے قطع نظر انہیں تبدیلی کا ایجنٹ سمجھتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز دبئی میں ہونے والی ساوتھ ایشیا رائزنگ کانفرنس کے موقع پر العربیہ انگلش سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر "اس وقت صاف سلیٹ کی طرح ہیں۔" امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے سوال پر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ "ٹرمپ کے لئے ہمارے خطے یعنی بھارت، پاکستان، کشمیر اور افغانستان سمیت دیگر عالمی امور نئے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں کیا۔ ان پر اثر انداز ہو کر ان کے ذہن کو درست سمت میں لگایا جا سکتا ہے۔"

دہشت گردی کے خلاف جنگ

اپنے انٹرویو میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ"پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ دہشت گردی کے چینلج کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو صدق دل سے کوشش کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف صورتیں موجود ہیں، اس میں ہر قسم کا مقابلہ کرنا ہو گا۔"

انہوں نے کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کر کے عرب خطے سمیت ہم پوری دنیا کی مدد کریں گے۔ بینادی طور پر پاکستان کو جن باتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، باقی دنیا کا بھی ایسے ہی امور سے واسطہ ہے۔"

فرقہ واریت

ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ مسلم دنیا میں دہشت گردی سے متعلق ان کے خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دہشت گردی میں فرقہ واریت کے آہنگ کی شمولیت سے یہ مسلمان دنیا کے لئے انتہائی دھماکا خیز اور خطرناک بن جاتی ہے۔ اسے حل کرنا ضروری ہے۔

"یمن، عراق اور شام سمیت مشرق وسطی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب فرقہ وارنہ ہے۔ اس پر نظر رکھنے اور روکنے کی ضرورت ہے۔"

اپنے انٹرویو کے دوران جنرل مشرف نے پاکستان کی سیاسی صورتحال، پاک-بھارت تنازعات اور پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کے "مسلم نیٹو" کی سربراہی جیسے امور پر بھی بات کی۔

پرویز مشرف 2001 سے 2008 تک پاکستان کے صدر اور 1998 سے 2007 تک فوج کے سربراہ رہے۔ انہوں نے ۱۹۹۹ء میں نواز شریف حکومت برخاست کر کے اقتدار سنبھالا تو ٹائمز میگزین نے "اسے دنیا کی خطرناک ترین ذمہ داری" قرار دیا۔ انہوں نے اپنی مدت صدارت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا جبکہ ان پر خود بھی کئی مرتبہ دہشت گرد حملے ہوئے۔