.

یمن میں دیر پا قیام امن کی مساعی کی حمایت کرتے ہیں: پاکستان

یمن کے نائب وزیراعظم کی صدر ممنون سمیت اہم حکومتی عہدیداروں ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران صدر ممنون حسین اور وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سمیت دیگر اہم حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کی ہیں۔

یمنی نائب وزیراعظم اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعاون کے فروغ اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

العربیہ داٹ نیٹ کے مطابق یمنی نائب وزیراعظم عبدالملک المخلافی سوموار کو دور روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے، جہاں آج انہوں نے صدر پاکستان سمیت دیگر اہم حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کی۔

یمنی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں صدرممنون حسین نے کہا کہ پاکستان ان کا ملک یمن میں دیر پا قیام امن اور موجودہ شورش کے جلد خاتمے کا متمنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن میں صدر عبد ربہ منصور ھادی کی قیادت میں قائم آئینی حکومت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور یمن میں امن کے قیام کے لیے اپنا ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے یمنی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت یمن کے ساتھ تعاون سمیت تمام شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریہ یمن میں امن استحکام کے خواہاں ہیں اور ملک میں جاری شورش پر جلد از جلد قابو پانے کے متمنی ہیں۔

سرتاج عزیز نے صدر عبد ربہ کی قیادت میں یمن میں قیام امن کے لیے جاری مساعی کی تعریف کی اور کہا کہ صدر ھادی کی قیادت میں آئینی حکومت نے یمن کے 80 فی صد علاقے پر اپنی عمل داری بحال کی ہے۔ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ اور پاکستان دہشت گردی کے ناسور نمٹنے کے لیے سے مل کر کام کرنےکے لیے تیار ہے۔

اس موقع پر یمنی نائب وزیراعظم نے یمن کی سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ عبدالملک المخلافی نے پاکستانی قیادت کو یمن کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور جنگ سے متاثرہ یمنی شہروں میں امدادی سرگرمیوں کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا۔