.

اردو نے ہانگ کانگ میں کس کی جان بچا لی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہانگ کانگ میں ایک 20 سالہ پولیس جوان نے رواں اردو میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے ایک شخص کو خودکشی سے بچایا جس کے بعد سے آن لائن پر ان کی بہت پذیرائی ہو رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے نے "اپیل ڈیلی" کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستانی شخص ایک تعمیراتی مقام پر 20 میٹر (65 فٹ) اونچی کرین پر چڑھ گیا تھا جس کے بعد پولیس کو وہاں طلب کیا گيا تھا۔

پولیس جوان افضال ظفر بھی پاکستانی نژاد ہیں اور وہ خودکشی پر مائل پاکستانی کے پیچھے کرین پر چڑھ گئے اور ان سے مادری زبان میں بات کی جس کے بعد وہ نیچے اترنے کے لیے راضی ہو گئے اور انھیں ہسپتال پہنچایا گیا۔

مقامی کینٹونی زبان بھی روانی سے بولنے والے کانسٹیبل افضال ظفر نے کہا کہ وہ صرف اپنی تربیت کے مطابق عمل کر رہے تھے۔

انھوں نے مقامی اخبار ایپل ڈیلی کو بتایا: 'میں نے اس طریقۂ کار کا استعمال کیا جسے ہم نے اکیڈمی میں سیکھا تھا۔ میرے خیال سے جب میں نے اس کی ہی زبان میں بات کی تو وہ خود کو محفوظ سمجھنے لگا۔'

افضال ظفر صرف ایک سال قبل پولیس فورس میں شامل ہوئے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ یہاں پاکستانی نژاد واحد افسر ہیں۔ انھیں ہانگ کانگ پولیس کی آپریشن 'جیم سٹون' نامی سکیم کے تحت بھرتی کیا گیا ہے جس میں غیر چینی نسل کے افسر کو بھرتی کیے جانے کا موقع دیا گیا۔