.

جنرل راحیل شریف کی مسلم فوجی اتحاد کی قیادت کے لیے راہ ہموار

پاکستان کا سعودی حکومت کی تحریری درخواست پر سابق آرمی چیف کو این او سی جاری کرنے کا اصولی فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت نے سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی انتالیس مسلم ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کی قیادت کے لیے اصولی منظوری دے دی ہے۔

خواجہ آصف نے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ حکومت نے سعودی حکومت کی جانب سے اس ضمن میں تحریری درخواست موصول ہونے کے بعد اصولی طور پر انھیں عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ(این او سی) جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ابھی تمام دفتری کارروائی مکمل نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’اس فوجی اتحاد کا ابھی ڈھانچا نہیں بنا ہے اور جب جنرل راحیل شریف اپنا عہدہ سنبھالیں گے تو وہ اس کا ڈھانچا وضع کریں گے‘‘۔ جیو ٹی وی کا یہ پروگرام اتوار کی شب دس بجے نشر کیا جائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس مسلم فوجی اتحاد کے وزرائے دفاع کی مشاورتی کونسل کا مئی میں اجلاس متوقع ہے اور اس میں اتحاد کے مستقبل کے بارے میں غور کیا جائے گا۔

پاکستانی وزیر دفاع نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کو 11 جنوری کو بتایا تھا کہ جنرل راحیل شریف کو انتالیس ممالک پر مشتمل اتحاد کی سربراہی قبول کرنے کے لیے حکومت سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا تھا کہ وزارت دفاع کی جانب سے بعد از ریٹائرمنٹ آرمی افسروں کی جانب سے کوئی ذمے داریاں قبول کرنے کے لیے وضع کردہ قواعد وضوابط کا جنرل راحیل شریف پر بھی اطلاق ہوگا۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف چونتیس ممالک پر مشتمل اتحاد 16 دسمبر 2015ء کو معرضِ وجود میں آیا تھا۔تب عرب لیگ نے معاہدہ شمالی اوقیانوس کے طرز پر''عرب نیٹو'' کے نام سے ایک سریع الحرکت فوج کی تشکیل کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ سعودی عرب نے گذشتہ سال پاکستان کی مشاورت سے جنرل راحیل شریف کے دہشت گردی مخالف اس اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر تقرر کا اعلان کیا تھا۔

اس فوجی اتحاد میں مشرقِ وسطیٰ ،افریقا اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے مسلم ممالک شامل ہیں۔پہلے ان کی تعداد چونتیس تھی،اب ان کی تعداد بڑھ کر انتالیس ہوچکی ہے۔ان میں پاکستان ،سعودی عرب ،ترکی ،متحدہ عرب امارات ، بحرین ،بنگلہ دیش، تیونس ،سوڈان ،ملائشیا ، یمن ، مصر اور دوسرے ممالک شامل ہیں۔اس فوجی اتحاد کا مشترکہ کمان مرکز اور صدر دفاتر سعودی دارالحکومت الریاض میں ہیں۔