.

سری لنکن ٹیم پر حملے میں ملوّث القاعدہ کا لیڈر امریکی حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگان نے جنگ زدہ افغانستان میں اپنے ایک فضائی حملے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے ایک سینیر لیڈر کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

پینٹاگان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان سے تعلق رکھنے والا قاری یاسین 19 مارچ کو افغانستان کے صوبے پکتیکا میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔وہ 2008ء میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر بم حملے اور 2009ء میں لاہور میں سری لنکن ٹیم کی بس پر حملے میں ملوّث تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قاری یاسین کا شمار القاعدہ کے سینیر رہ نماؤں میں ہوتا تھا اور اس کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) سے بھی روابط تھے۔اس نے القاعدہ کے دہشت گردی کے متعدد حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

قاری یاسین نے 20 ستمبر 2008ء کو میریٹ ہوٹل پر بم حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔اس تباہ کن بم دھماکے میں امریکی فوج کے میجر روڈلف آئی روڈریگوز اور بحریہ کے ٹیکنیشن پیٹی افسر میتھیو جے او برینٹ سمیت دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

لاہور میں قذافی اسٹیڈیم کی جانب آتے ہوئے سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس پر حملے میں چھے پاکستانی پولیس اہلکار اور دو شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔بس پر فائرنگ سے سری لنکن ٹیم کے چھے کھلاڑی زخمی ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد غیرملکی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان میں بین الاقوامی میچ کھیلنے سے انکار کردیا تھا اور تب سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال نہیں ہوسکی ہے۔

امریکی وزیردفاع جیمز میٹس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ قاری یوسف کی موت اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کا چہرہ مسخ کرنے اور بے گناہ لوگوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے والے دہشت گرد انصاف سے بچ نہیں سکیں گے‘‘۔

قاری یوسف کی مشرقی افغانستان میں امریکی فضائی حملے میں ہلاکت سے پاکستان کے ان دعووں کو تقویت ملی ہے کہ اس کے دشمن جنگجو پڑوسی ملک میں خفیہ کمین گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر ایک دوسرے کے مخالف جنگجو گروپوں کو پناہ دینے کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں لیکن اس ماہ کے اوائل میں پاکستان میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات میں 125 افراد کی ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ آگیا تھا۔پاکستان نے افغانستان کے ساتھ واقع اپنی سرحد بند کردی تھی اور اس کو اگلے روز ہی ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد طورخم کی سرحد کو کھولا ہے۔