.

بدنام زمانہ عزیر بلوچ پاک فوج کے حوالے : آئی ایس پی آر

ایرانی انٹیلی جنس کو پاک فوج سے متعلق خفیہ معلومات دینے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے بدھ کو علی الصباح کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے بدنام زمانہ گینگ وار لیڈر عزیر جان بلوچ کو جاسوسی کے الزام میں اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سلسلہ وار ٹویٹس میں اطلاع دی ہے کہ عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

عزیر بلوچ کو گذشتہ سال جنوری میں رینجرز اہلکاروں نے کراچی کے نواح سے ایک چھاپا مار کارروائی میں گرفتار کیا تھا۔اس کے بعد عدالت نے اس کو تفتیش کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔

اس سے تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مئی 2016ء میں انکشاف کیا تھا کہ عزیز بلوچ پڑوسی ملک ایران کی ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام کرتا رہا تھا۔ اس ٹیم نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے اس بدنام زمانہ لیڈر کے لیے ایک فوجی عدالت میں جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلانے کی سفارش کی تھی۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی اس رپورٹ پر سندھ پولیس ، رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندوں کے دستخط تھے اور اس کو گذشتہ سال 29 مئی کو مزید ضروری کارروائی کے لیے محکمہ داخلہ کو بھیج دیا گیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوّث رہا تھا۔اس نے فوجی تنصیبات اور فوجی حکام کے بارے میں غیرملکی ایجنٹوں ( ایرانی انٹیلی جنس کے افسروں) کو معلومات فراہم کی تھیں اور اس کی یہ حرکت آفیشیل سیکرٹ ایکٹ 1923ء کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ عزیر بلوچ کی گرفتاری کے حوالے سے اب تک متنازع اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایک سال سے زیادہ عرصے قبل اس کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ اس کو بین الاقوامی پولیس ایجنسی (انٹرپول) نے دبئی سے گرفتار کیا تھا اور پھر پاکستانی حکام کے حوالے کردیا تھا۔ بعد میں وہ پراسرار طور پر کراچی کے نواح میں نمودار ہوا تھا اور سندھ رینجرز نے ایک اہدافی کارروائی میں اس کو گرفتار کر لیا تھا۔

سینتیس سالہ عزیر جان بلوچ ماضی میں سندھ کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا وفادار رہا تھا اور اس کے پی پی پی کے کئی لیڈروں کے ساتھ خصوصی مراسم رہے تھے اور پی پی پی کے یہ لیڈر اس کو اپنے مقاصد اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے رہے تھے۔گرفتاری سے قبل کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے اس کو چالیس سے زیادہ مقدمات میں اشتہاری قرار دے رکھا تھا۔

لیاری میں 2012ء میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کی گئی کارروائی کے دوران میں اس کے خلاف قتل ،اقدام قتل، بھتے ،دہشت گردی اور پولیس پر حملوں کے الزام میں پینتیس مقدمات درج کیے گئے تھے۔اس کو لیاری میں مارچ 2013ء میں اپنے مخالف گینگ کے لیڈر ارشد پپّو ،اس کے بھائی یاسرعرفات اور ان کے ساتھی جمعہ شیرا کے بہیمانہ انداز میں تہرے قتل کے مقدمے میں بھی اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔