.

چیف جسٹس پاکستان : مشعال خان کے اندوہ ناک قتل کا از خود نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے چیف جسٹس ،جسٹس میاں ثاقب نثار نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں اندوہ ناک قتل کے واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے صوبہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس کو واقعے سے متعلق رپورٹ آیندہ 36 گھنٹے میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے احاطے میں مشتعل طلبہ نے جمعرات کو اپنےایک ساتھی طالب علم مشعال خان کو آن لائن توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا تھا۔ان کے تشدد سے ایک اور طالب علم عبداللہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔

23 سالہ مقتول مشعال اور زخمی عبداللہ ابلاغ عامہ کے طالب علم تھے۔ ان دونوں پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر فیس بُک پر ایک کالعدم فرقے قادیانیت (احمدیت ) کی تبلیغ وتشہیر کررہے تھے۔ پہلے یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک گروہ نے عبداللہ کو گھیرے میں لے کر اس سے قرآن مجید کی تلاوت کے لیے کہا تھا۔اس نے اس الزام کی تردید کی تھی کہ وہ قادیانی ہے لیکن اس کے باوجود مشتعل طلبہ نے اس کومارا پیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

پولیس نے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی یونیورسٹی میں پہنچ کر عبداللہ کو بچا لیا لیکن اس کے بعد طلبہ کا ہجوم ہاسٹل میں مشعال خان پر حملہ آور ہوگیا تھا۔ایک عینی شاہد کے مطابق مشتعل طلبہ نے اس کو مارا پیٹا اور گولی مار دی۔واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں مشعال بے حس وحرکت فرش پر گرا پڑا تھا اور اس کے ارد گرد مبیّنہ حملہ آور افراد کھڑے تھے۔اس کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات نظر آرہے تھے۔

ہجوم مشعال خان کی لاش کو جلانا بھی چاہتا تھا لیکن پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے ایسا نہیں کرنے دیا۔تاہم یونیورسٹی نے ایک بیان جاری کیا تھا کہ وہ مشعال اور عبداللہ سمیت تین طالب علموں کے خلاف مبینہ توہین آمیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں تحقیقات کرے گی۔ یونیورسٹی نے تمام کیمپسیس میں ان کے داخلے پر پابندی عاید کردی تھی۔ یہ نوٹی فیکشن واقعے کے روز 13 اپریل ہی کو جاری کیا گیا تھا لیکن اس میں واقعے یا اس کی مذمت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ہفتے کے روز صوبائی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشعال خان سے متعلق کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ اس نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ اس سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔درایں اثناء یہ اطلاع بھئ سامنے آئی ہے کہ آٹھ افراد کے خلاف مشعال کی اندوہ ناک موت پر قتل اور دہشت گردی کے الزام میں عدالت میں چالان پیش کردیا گیا ہے۔

سرکاری وکیل رفیع اللہ خان نے بتایا ہے کہ آٹھ طلبہ کو قتل اور ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرنے کے الزام میں مردان میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

درایں اثناء وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے مشعال کے قتل پر انھیں گہرا صدمہ پہنچا ہے اور وہ افسوس اور صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ انھوں نے واقعے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا ہے کہ اس کے ذمے داروں کو جان لینا چاہیے کہ ریاست قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے شہریوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتے گی۔

انھوں نے کہا کہ پوری قوم کو اس افسوس ناک واقعے پر متحد ہوجانا چاہیے،اس جرم کی مذمت کرنی چاہیے اور معاشرے میں رواداری اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے۔