.

پاناما پیپرز اسکینڈل کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنایا جائے گا

عدالت عظمیٰ نے سپلیمنٹری کاز لسٹ جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز اسکینڈل کیس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے منگل کے روز سپلیمنٹری کاز لسٹ جاری کی ہے اور اس میں بتایا ہے کہ جمعرات کو دوبجے اس مشہور زمانہ کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔پاکستان کے سیاسی ،صحافتی اور کاروباری حلقوں کو اس فیصلے کا بڑی شدت سے انتظار ہے اور اس کے حوالے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

سپریم کورٹ کی پانچ رکنی لارجر بینچ نے سینیر جج جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پاناما پیپرز اسکینڈل کی کئی ماہ تک سماعت کی تھی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔اس بینچ میں جسٹس اعجاز افضل خان ،جناب جسٹس گلزار احمد ،جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان احمد نیازی نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف ان کے دو بیٹوں کے نام پاناما پیپرز میں آنے کے بعد یہ آئینی درخواست دائر کی تھی اور اس میں عدالت سے انھیں سرکاری عہدے کا نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کیس میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی درخواست گزار تھے۔سراج الحق نے وفاق پاکستان کو پارلیمانی امور کی وزارت کے ذریعے فریق بنایا تھا اور اپنی درخواست میں وزیراعظم میاں نوازشریف کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ان کے وکلاء نے عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وزیراعظم نے ناجائز ذرائع سے دولت بنائی تھی،وہ صادق اور امین نہیں رہے ،اس لیے انھیں نااہل قرار دے دیا جائے۔