.

پانامہ پیرز اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے JIT بنائی جائے: سپریم کورٹ

دو ججوں نے نواز شریف کو نااہل جبکہ تین نے اس سے اختلاف کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف خاندان کی لندن جائیدادوں سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ متفقہ نہیں۔ جسٹلس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزاراحمد نے اختلافی نوٹ دیا ہے۔ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے اکثریتی فیصلہ تحریر کیا ہے۔

فیصلے کے مطابق اس جے آئی ٹی میں چھ ممبران ہوں گے۔ ان ممبران میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، نیب کا ایک رکن، ایس ای سی پی کے ایک رکن، سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ایک رکن، اور ایک ایک رکن آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس سے۔ حسن نواز اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں جسٹس آصف سعید کھوسہ پاناما کیس کا 540 صفحات پر مشتمل پہلے سے محفوظ فیصلہ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سنانے سے پہلے کہا کہ فیصلہ 547 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں سب نے اپنی رائے دی ہے۔

اس موقع پر کمرہ عدالت سیاسی رہنماؤں، وکلا رہنما اور سیاستدانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ جن میں وفاقی وزرا سمیت اہم ترین حکومتی رہنما، عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے سرکردہ لیڈر، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی شامل ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا تھا۔ 57 روز فیصلہ محفوظ رکھے جانے کے بعد سپریم کورٹ کی عدالت نمبر 1 میں فیصلہ سنایا جارہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے سراج الحق نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستیں دائر کی تھیں، درخواست گزاروں نے عدالت عظمٰی سے درخواست کی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نااہل قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے مجموعی طور پر دو مرحلوں میں 36 سماعتوں میں کیس کو سنا۔ پہلے مرحلے میں جب چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 4 جنوری 2017 سے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا گیا، سماعت کے دوران جسٹس بینچ میں شامل جسٹس عظمت سیعد کیس کو دل کی تکلیف کا بھی سامنا ہوا جس کی وجہ سے کیس کی سماعت کچھ دنوں کے لیے ملتوی کی گئی۔