.

حب میں توہینِ رسالت کے واقعے کے خلاف پُرتشدد احتجاج، کم سن بچہ ہلاک

مشتعل مظاہرین کا گرفتار ہندو ملزم کو حوالے کرنے کا مطالبہ ، سرکاری اہلکاروں پر تشدد اور پتھراؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں مشتعل ہجوم نے توہین رسالت کے مبینہ طور پر مرتکب ایک ہندو کو پولیس کی حراست سے قبضی میں لینے کے لیے پُرتشدد احتجاج کیا ہے جس کے دوران میں فائرنگ سے ایک دس سالہ لڑکا ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ضلع لسبیلہ کے قصبے حب میں منگل کے روز پرکاش کمار نامی ایک ہندو نوجوان نے وَٹس ایپ پر توہین آمیز مواد شئیر کیا تھا۔اس کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اور اس کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں دفعہ 295 اے اور سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیاتھا۔

چونتیس سالہ کمار حب میں ایک دکان دار ہے اور ا س کی برتنوں کی دکان بتائی جاتی ہے۔ ایک مقامی پولیس افسر عبدالستار نے بتایا ہے کہ جب اس کی گرفتاری کی خبر ایک مقامی اخبار میں جمعرات کو شائع ہوئی تو تاجروں ،مذہبی قائدین ، مقامی سیاست دانوں سمیت قریباً پانچ سو افراد حب پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو کر احتجاج کرنے لگے اور انھوں نے ملزم کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس کو وہ اپنے ہاتھوں سے ’’ازدحامی انصاف‘‘ کی بھینٹ چڑھا سکیں۔

جب پولیس نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا تو انھوں نے پولیس افسروں اور اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کردیا ۔ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ شروع کردی جس سے ایک دس سالہ بچہ مارا گیا ہے اور پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں میں حب سرکل کے ڈپٹی سب انسپکٹر پولیس جان محمد کھوسہ ،پولیس کانسٹیبل مختیار احمد اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر طارق جاوید مینگل شامل ہیں۔

ایک اور پولیس افسر جان محمد نے بتایا ہے کہ ان مظاہرین نے تین گھنٹے تک تھانے کا گھیراؤ کیے رکھا تھا اور وہ برابر پرکاش کمار کو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔اس نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر توہین آمیز تصویر پوسٹ کی تھی۔

حب میں امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کے بعد پیراملٹری دستوں کو طلب کر لیا گیا اور انھوں نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کردیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر مجیب قنبرانی کا کہنا ہے کہ حکومت ہجوم کے مطالبے پر جھکی نہیں ہے کیونکہ ہم ملزم کو قانونی طور پر بچانے کے پابند تھے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں ہندو برادری کی ملکیتی تمام دکانیں بند کردی گئی ہیں اور صوبہ سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی تمام شاہراہوں کو تاحکم ثانی بند کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں پاکستان میں اس طرح کا یہ تیسرا واقعہ ہے ۔ 13 اپریل کو صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں واقع خان عبدالولی یونیورسٹی میں مشتعل طلبہ نے اپنے ہی ایک ساتھی طالب علم مشعل خان کو توہین مذہب کے الزام میں بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ ایک ہفتے کے بعد اسی صوبے کے ضلع چترال میں ایک ذہنی معذور شخص نے جھوٹا نبی ہونے کا دعویٰ کردیا تھا ۔مشتعل ہجوم اس کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن ایک مقامی عالم اور پولیس نے مداخلت کر کے اس کو بچا لیا تھا اور اس کو تھانے منتقل کردیا گیا تھا۔