.

ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی ، فوجی سربراہ کے دھمکی آمیز بیان پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں متعیّن ایرانی سفیر کو منگل کے روز طلب کیا ہے اور ان سے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے اس بیان پر باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے جس میں انھوں نے سرحدپار پاکستانی علاقے میں مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے:’’ ایرانی سفیر کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کی روح کے منافی ہیں‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر حالیہ تبادلوں سے دوطرفہ تعاون مضبوط ہوا ہے اور دونوں ملکوں نے سرحدی امور سے متعلق تعاون بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔

’’ ایران سے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات جاری کرنے سے گریز کیا جائے جو دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات پر اثرانداز ہوسکتے ہوں‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے گذشتہ روز پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے سرحدپار حملے کرنے والے جنگجوؤں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو اس کے علاقے میں ان کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم اس صورت حال کے تسلسل کو قبول نہیں کرسکتے۔ہم پاکستانی حکام سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کو کنٹرول اوردہشت گردوں کو گرفتار کریں گے اور ان کے ٹھکانوں کو بند کردیں گے‘‘۔

گذشتہ ماہ ایران کے علاقے میں جنگجوؤں کے حملے میں دس سرحدی محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔ایران نے علاقے میں برسر پیکار جنگجو گروپ جیش العدل پر سرحدی محافظوں کو طویل فاصلے سے مار کرنے والی بندوقوں کے ذریعے نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے پاکستانی علاقے سے فائرنگ کی تھی جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ جنگجوؤں نے ایرانی سرزمین سے ہی سرحدی محافظوں پر حملہ کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ ہفتے پاکستان کا غیر علانیہ دورہ کیا تھا اور وزیراعظم میاں نواز شریف سے بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے پر زوردیا تھا۔ پاک آرمی نے ایران کو سرحد پراضافی دستے تعینات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔