.

پاکستان :قطر میں 20 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا امکان مسترد

دفتر خارجہ نے پاکستانی فوجی خلیجی ریاست میں بھیجنے سے متعلق رپورٹس کو من گھڑت قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بعض غیرملکی میڈیا ذرائع کی ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں گہرے ہوتے سفارتی بحران کے پیش نظر پاکستان نے قطر میں بیس ہزار فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترکی کی سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن( ٹی آر ٹی) کی اردو ویب سائٹ نے قبل ازیں یہ رپورٹ دی تھی کہ’’ پاکستان کی قومی اسمبلی میں قطر میں بیس ہزار فوجی تعینات کرنے سے متعلق ایک بل منظورکیا گیا ہے اور قومی اسمبلی نے قطر اور متعدد عرب ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد دونوں فریقوں سے اعتدال پسندی سے کام لینے اور اختلافات کو مذکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی ہے‘‘۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ غیرملکی میڈیا کی اس حوالے سے رپورٹس من گھڑت اور بے بنیاد ہیں اور یہ ایک مذموم مہم کا حصہ ہیں جس کے تحت پاکستان اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کے بیج بونے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سعودی عرب ، مصر ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ سوموار کو مشترکہ طور پر قطر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ان کے اس اقدام کے بعد سے پاکستان اور بعض دوسرے ممالک خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زوردے رہے ہیں لیکن اب تک تنازع کے فریقوں کے درمیان براہ راست بات چیت کا کوئی سلسلہ شروع نہیں ہوسکا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان نے گذشتہ ہفتے اس سفارتی تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں تمام متعلقہ ممالک پر زوردیا گیا تھا کہ وہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے طے کریں۔

پارلیمان کے ایوان زیریں نے حکومت پر یہ بھی زوردیا تھا کہ وہ مسلم اُمہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے ٹھو س اقدامات کرے۔بعض ارکان نے حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ غیر جانبدار رہے اور اس تنازع کے تناظر میں مثبت کردار ادا کرے۔

گذشتہ ہفتے قطر کے ایک چھے رکنی وفد نے ایک کاروباری شخصیت عبدالہادی منا الحجری کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی عہدہ داروں سے ملاقات کی تھی اور انھیں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد کا ایک پہنچایا تھا۔اس میں انھوں نے پاکستان سے مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی تنازع میں مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان نے قطری وفد کے دورے سے لاعلمی ظاہر کی تھی۔ البتہ پاکستان کی جانب سے بحران کو بہتر انداز میں حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔