.

ضلع ہنگو میں ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کا کمانڈر ساتھی سمیت ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں حقانی نیٹ ورک کا کمانڈر اپنے ایک ساتھی سمیت ہلاک ہوگیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہنگو کے علاقے سپین ٹل میں حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر ابوبکر کے مکان پر سوموار کی شب دو میزائل داغے گئے تھے جس سے مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔پاکستانی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر اس ڈرون حملے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ڈرون کچھ دیر کے لیے علاقے کے اوپر پرواز کرتا رہا تھا اور پھر اس نے اپنے ہدف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔تباہ شدہ مکان سے ابو بکر اور اس کے ایک ساتھی کی لاش نکال لی گئی ہے۔سپین ٹل کا علاقہ اورکزئی ، کرم اور شمالی وزیرستان ایجنسیوں کے سرحدی سنگم پر واقع ہے۔

ضلع ہنگو کے سرحدی علاقے میں اس ڈرون حملے سے چند روز قبل ہی افغان سکیورٹی حکام نے حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر کابل میں 31 مئی کو خودکش ٹرک بم دھماکے کا الزام عاید کیا تھا۔اس تباہ کن بم دھماکے میں کم سے ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حکومتِ پاکستان نے افغانستان کے اس الزام کو سختی سے مسترد کرد یا تھا اور ہر سطح پر اس کی تردید کی تھی۔

افغان صدر اشرف غنی اور دوسرے عہدہ دار حسب روایت پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر جنگ زدہ ملک میں آئے دن ہونے والے بم دھماکوں کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز چودھری نے اسی ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان منتقل ہوچکا ہے اور افغان حکام کو پاکستان پر الزام عاید کرنے کے بجائے اپنی سرزمین سے اس جنگجو نیٹ ورک کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ سوویت روس کے خلاف افغان جنگ کے زمانے میں بزرگ کمانڈر جلال الدین حقانی نے حقانی نیٹ ورک قائم کیا تھا۔اب ان کے بیٹے سراج الدین اس کو چلا رہے ہیں۔ اس گروپ پر افغانستان میں تعینات امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں پر ہونے والے سب سے تباہ کن حملوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔امریکا نے ستمبر 2012ء میں اس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔