.

جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب سے واپس نہیں بلایا جائے گا: مشیر وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بری فوج کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف نے اپنی ذاتی حیثیت میں سعودی عرب کی قیادت میں اکتالیس ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کی کمان سنبھالی ہے اور حکومت انھیں واپس نہیں بلا سکتی۔

انھوں نے یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور میں بدھ کے روز بیان دیتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کمیٹی کو سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے قطر سے سفارتی اور معاشرتی تعلقات منقطع کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

اجلاس کے دوران میں حزب اختلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر کریم خواجہ نے خلیج بحران میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ سابق آرمی چیف سے یہ کہا جائے کہ وہ رضاکارانہ طور پر پاکستان واپس آجائیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے ان کے اس مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر راحیل شریف کو پاکستان واپسی کے لیے کہا جاتا ہے تو اس سے ملک کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سرتاج عزیز نے کمیٹی کو بتایا کہ جنرل راحیل شریف کو حکومتِ پاکستان نے فوجی اتحاد کی قیادت کے لیے نہیں بھیجا تھا،اس لیے انھیں واپسی کا بھی نہیں کہا جاسکتا۔انھوں نے کہا کہ یمن بحران کے وقت پارلیمان میں منظور کردہ قرارداد موجودہ خلیجی بحران میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

سنہ 2015ء میں یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے جب صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی عمل داری کی بحالی کے لیے مداخلت کی تھی تو پارلیمان نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد کی منظوری دی تھی اور اس میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ پاکستان کو اس تنازعے میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تاکہ وہ بحران کے حل کے لیے غیر جانبدارانہ اور فعال کردار ادا کرسکے۔

مشیر خارجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان گہرے ہوتے خلیج بحران میں اپنی یہ غیر جانبداری برقرار رکھے گا اور وہ دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے گریز کرے گا۔